رسائی کے لنکس

logo-print

موجودہ خارجہ پالیسی ’تباہی‘ کا باعث: ٹرمپ کا الزام


ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ اوباما اور ہیلری نے ’’تباہ کُن، بے لگام اور بے مقصد‘‘ خارجہ پالیسی چلائی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’اس میں کسی قسم کا کوئی نصب العین، مقصدیت، سمت یا حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی‘‘

ریپبلیکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز امریکی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلیوں کا مطالبہ کیا، تاکہ، بقول اُن کے، ’’امریکی مفادات کو اولیت مل سکے‘‘۔ اُنھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اِس وقت جاری یہ پالیسی ’’مکمل طور پر تباہ کُن‘‘ ہے۔

ایک وقت تھا جب ٹرمپ ٹیلی ویژن ریلٹی شو کیا کرتے تھے، جو کبھی کسی عوامی عہدے کے لیے منتخب نہیں ہوئے۔ اس سے قبل، اُنھوں نے اتنی تفصیل سے اپنے خارجہ پالیسی اہداف کا حوالہ نہیں دیا۔ لیکن، واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں 38 منٹ تک اپنے خطاب میں اُنھوں نے صدر براک اوباما کی جانب سے امریکی خارجہ امور چلانے اور ایک وقت میں اُن کی چوٹی کی سفارت کار، ہیلری کلنٹن کے فیصلوں پر سخت تنقید کی۔

ہیلری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار ہیں، جو ٹرمپ کا سامنا کریں گی، اگر ریپبلیکن پارٹی اُنھیں نومبر کے قومی انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کرتی ہے۔

ٹرمپ نے الزام لگایا کہ اوباما اور ہیلری نے ’’تباہ کُن، بے لگام اور بے مقصد‘‘ خارجہ پالیسی چلائی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’اس میں کسی قسم کا کوئی نصب العین، مقصدیت، سمت یا حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی ہے‘‘۔

تاہم، اُنھوں نے نام لیے بغیر صدر جارج ڈبلیو بُش کی پالیسیوں پر بھی الزام لگایا، جس کے نتیجے میں، سنہ 2001 کے امریکی سرزمین کے خلاف دہشت گرد حملوں کے بعد، برسوں تک عراق جنگ لڑی گئی۔

اپنے خطاب سے قبل، واشنگٹن ’مے فلاور ہوٹل‘ سے احتجاج کرنے والے ایک شخص کو ہٹایا گیا۔

داعش باقی نہیں رہے گی

جائیداد کے ارب پتی کاروباری، ٹرمپ ریپبلیکن پارٹی کی نامزدگی کے حصول کے قریب لگتے ہیں۔ تاہم، اس کا اعلان ہونا باقی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی غلطیوں کی بنیاد ’’اس خطرناک خیال پر مبنی ہے کہ اُن ملکوں کو جنھیں کوئی تجربہ نہیں، اُنھیں مغربی جمہوریت سکھلائی جاسکتی ہے۔ ہم نے اُن اداروں کو بھی بگاڑ کر رکھ دیا جو تھوڑے بہت موجود تھے، پھر ہم نے جو کچھ کیا اُس پر ہم خود حیران رہ گئے: خانہ جنگی، مذہبی کٹرپن، ہزاروں امریکیوں کی ہلاکت، زندگیاں، زندگیاں، زندگیاں ضائع ہوئیں، بُری طرح سے ضائع ہوئیں‘‘۔

اُنھوں نے عہد کیا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوتے ہیں اور اوباما کی جگہ لیتے ہیں، جب وہ جنوری میں عہدے سے برخواست ہوں گے، میں مشرق وسطیٰ میں داعش کے باغیوں کو تباہ کردوں گا۔ اُنھوں نے یہ بات دولت اسلامیہ کو داعش کے نام سے پکارتے ہوئے کہی۔

بقول ٹرمپ، ’’داعش ختم ہوجائے گی۔ دولت اسلامیہ فوری طور پر، بہت جلد ختم ہو چکی ہوگی‘‘۔

ریپبلیکن پارٹی کی نامزدگی کے لیے مہینوں تک انتخابی مہم جاری رکھنے والے ٹرمپ نے اکثر اُن خصوصی اقدامات کا حوالہ دیا ہے جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ میکسیکو سرحد کے ساتھ ایک اونچی دیوار قائم کریں گے، تاکہ امریکہ آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو روکا جاسکے؛ امریکہ میں موجود ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کیا جائے؛ اور مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی لگائی جائے۔

تاہم، اُنھوں نے بدھ کے روز اِن میں سے کسی کا بھی ذکر نہیں کیا۔

وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے وہ ایران کے ساتھ نئے سرے سے بین الاقوامی سمجھوتا طے کریں گے، اوباما کے تجارتی معاہدوں کی جگہ، وہ یورپ اور بحر الکاہل کے ساتھ بہتر تجارتی معاہدے طے کریں گے، نیٹو کے ساتھ امریکی تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیں گے، جس مغربی فوجی اتحاد میں دو عالمی جنگوں کے بعد، امریکہ ملوث رہا ہے۔

بدھ کے روز کے اپنے خطاب میں، ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہمارے اتحادی اخراجات میں اپنا مناسب حصہ نہیں ڈال رہے ہیں‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ 28 رُکنی نیٹو کے چار ملک فوج اور دفاعی پروگراموں پر اپنی قومی پیداوار کا صرف 2 فی صد خرچ کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر وہ اپنے اخراجات میں اضافہ کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو پھر امریکہ کو بھی تیار رہنا چاہیئے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے ہی خرچ کریں، بجائے یہ کہ مشترکہ نیٹو معاہدے کے تحت سب کا تحفظ کرے۔

انتخابی مہم کے دوران اپنے خطاب میں، ٹرمپ نے کہا کہ وہ جاپان اور جنوبی کوریا کی جانب سے جوہری ہتھیار تشکیل دینے کے خلاف نہیں ہیں؛ اور یہ کہ مشتبہ دہشت گردوں کی تفتیش کے دوران امریکہ کو اذیت کے جدید طریقہ کار پر عمل پیرا ہونا چاہیئے، جن میں اوباما کی جانب سے ممنوعہ ’واٹر بورڈنگ ‘کا طریقہ بھی شامل ہوگا۔ تاہم، اُنھوں نے بدھ کے روز اِن میں سے کسی کا ذکر نہیں کیا۔

XS
SM
MD
LG