رسائی کے لنکس

logo-print

چینی مصنوعات پر ٹیکس بڑھائیں گے، صدر ٹرمپ


ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ التوا کا شکار ہو جائے گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ رواں ہفتے چین سے 200 ارب ڈالر کی درآمدی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ چین سے آنے والے اربوں ڈالر کے مزید تجارتی سامان پر بھی اضافی ٹیکس عائد کئے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں تجارتی معاہدے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد دنیا کی بڑی معاشی قوتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

وال سٹریٹ جنرل کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد چین رواں ہفتے واشنگٹن میں طے شدہ تجارتی مذاکرات منسوخ کرنے پر غور کر رہا ہے۔ جبکہ اس اعلان سے اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں میں بھی اُتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔

امریکہ کے تجارتی ترجمان 'رابرٹ لائٹزر ' کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ چین کی جانب سے تجارتی معاملات پر اس کی وعدہ خلافیوں کے باعث کیا ہے۔

وائٹ ہاوس اور امریکی تجارتی حکام کی جانب سے تاحال واضح نہیں کیا گیا کہ چین رواں ہفتے تجارتی مذاکرات میں شرکت کرے گا یہ نہیں۔ چین کی وزارت تجارت کی جانب سے بھی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

چین کے خبررساں اداروں کے مطابق نائب وزیر اعظم 'لیو ہی' کی مذاکرات میں شرکت کا امکان نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار ہو گئیں ہیں۔ چین کی اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 5 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جبکہ ایشیائی منڈیوں میں بھی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ چین سے 325 ارب ڈالر کی درآمدت پر بھی 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق چینی محصولات کی شرح میں اضافے کا اثر مہنگائی کی صورت میں عوام پر نہیں پڑے گا۔ تاہم امریکی تجارتی حلقوں نے صدر ٹرمپ کے اس اعلان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا اثر لاکھوں امریکی عوام پر پڑے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG