رسائی کے لنکس

کیا تارکِ وطن بچوں کا مسئلہ ایگزیکٹو آرڈر سے حل ہوجائے گا؟


صدر ٹرمپ ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے بعد اسے صحافیوں کو دکھا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے بعد اسے صحافیوں کو دکھا رہے ہیں۔

لیکن ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے والدین کو بچوں سے جدا کرنے پالیسی ختم کیے جانے کے باوجود بظاہر یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا اور یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ حکومت اب غیر قانونی تارکینِ وطن سے کیسے نبٹے گی؟

کئی روز سے جاری کڑی تنقید اور دباؤ کے بعد صدر ٹرمپ نے بالآخر ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے ہیں جس کے تحت غیر قانونی طریقے سے امریکہ میکسیکو سرحد پار کرنے والے خاندانوں سے ان کے بچوں کو الگ کرنے کی پالیسی ختم کردی گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کو اس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں "خاندانوں کو جدا ہوتے دیکھنا" اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

صدر ٹرمپ کا اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ حکم نامہ جاری کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس معاملے پر ان پر کتنا سیاسی دباؤ تھا۔

ٹرمپ حکومت نے غیر قانونی طورپر امریکہ کی سرحد عبور کرنے والے تارکینِ وطن کے خلاف گزشتہ ماہ ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت بلا اجازت سرحد پار کرنے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کی منظوری دی گئی تھی۔

پالیسی کے نفاذ کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکینِ وطن کی پہلے سے کہیں زیادہ تعداد کو گرفتار کرکے جیل منتقل کیا جارہا تھا جس کے سبب ان کے ہمراہ آنے والے بچوں کو ان کے والدین سے الگ کردیا گیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران والدین سے الگ کیے جانے والے بچوں کی تعداد 2300 تک پہنچ گئی تھی جنہیں میکسیکو کی سرحد پر قائم کیے جانے والے ایک عارضی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں احتجاج کیا جارہا تھا۔
امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں احتجاج کیا جارہا تھا۔

امریکہ میکسیکو سرحد پر بچوں کو آہنی پنجروں میں رکھے جانے کی تصویریں اور اپنے والدین کو یاد کرتے ان کی روتی بلکتی آڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد ٹرمپ حکومت کی اس پالیسی پر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں شدید تنقید کی جارہی تھی۔

لیکن ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس پالیسی کو ختم کیے جانے کے باوجود بظاہر یہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا اور یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ حکومت اب غیر قانونی تارکینِ وطن سے کیسے نبٹے گی؟

ایگزیکٹو آرڈر سے کیا ہوگا؟

ایگزیکٹو آرڈر کی صورت میں جاری کی جانے والی نئی پالیسی کے تحت اب غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے والدین اور ان کے بچوں کو وفاقی جیلوں میں اس وقت تک ایک ساتھ رکھا جائے گا جب تک ان کے خلاف عدالتوں میں دائر فوجداری مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔

تو کیا مسئلہ حل ہوگیا؟

لیکن ایگزیکٹو آرڈر کے اجرا سے والدین اور بچوں کو الگ الگ رکھنے کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ امریکہ کی ایک وفاقی عدالت کی جانب سے 1997ء میں دیے جانے والے ایک فیصلے کے مطابق امریکی حکومت بچوں کو 20 دن سے زیادہ تحویل میں نہیں رکھ سکتی۔

'فلورس سیٹلمنٹ' کے نام سے معروف یہ عدالتی فیصلہ ہی ایگزیکٹو آرڈر میں متعارف کرائی جانے والی نئی پالیسی کی راہ میں اصل رکاوٹ بنے گا کیوں کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کے خلاف عدالتی کارروائی عموماً کئی کئی مہینوں تک جاری رہتی ہے۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران والدین سے الگ کیے جانے والے بچوں کی تعداد 2300 تک پہنچ گئی تھی جنہیں میکسیکو کی سرحد پر قائم کیے جانے والے ایک عارضی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران والدین سے الگ کیے جانے والے بچوں کی تعداد 2300 تک پہنچ گئی تھی جنہیں میکسیکو کی سرحد پر قائم کیے جانے والے ایک عارضی کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

نئے ایگزیکٹو آرڈر میں یہ کہا گیا ہے کہ ٹرمپ حکومت 'فلورس سیٹلمنٹ' کو کالعدم قرار دینے کے لیے عدالت میں اپیل دائر کرے گی تاکہ غیر قانونی تارکِ وطن خاندانوں کو غیر معینہ مدت تک جیلوں میں رکھا جاسکے۔

لیکن اگر عدالت نے اپیل مسترد کردی تو؟

تو کیا ہوگا؟ یہ واضح نہیں۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت کی جانب سے 'فلورس سیٹلمنٹ' کو عدالتوں سے کالعدم قرار دینے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔ اب اگر وفاقی حکومت نے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تارکینِ وطن کے بچوں کو 20 دن سے زیادہ عرصے تک حراست میں رکھا تو اسے انسانی حقوق کی تنظیموں اور تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے سرگرم اداروں کی جانب سے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ واضح نہیں کہ یہ مقدمات کتنا عرصہ چلتے ہیں اور اس دوران ان تارکینِ وطن خاندانوں کا کیا ہوگا جو جیلوں میں اپنی قسمت کے فیصلے کے منتظر ہوں گے؟

تارکِ وطن خاندانوں کو کہاں رکھا جائے گا؟

امریکہ میں وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام غیر قانونی تارکینِ وطن کے کئی حراستی مراکز موجود ہیں۔ لیکن ان میں اتنی گنجائش نہیں کہ وہاں نئے آنے والے خاندانوں کوبھی رکھا جاسکے۔ اس لیے بدھ کو جاری کیے جانے والے ایگزیکٹو آرڈر میں صدر ٹرمپ نے امریکی فوج سے کہا ہے کہ وہ نئے قیدیوں کو رکھنے کے لیے اپنی دستیاب تنصیبات فراہم کرے اور اگر ضرورت ہو تو نئی تنصیبات بھی تعمیر کی جائیں۔

ایک امریکی سرحدی محافظ میسیکو سے امریکہ آنے والے خاندان سے پوچھ گچھ کر رہا ہے (فائل فوٹو)
ایک امریکی سرحدی محافظ میسیکو سے امریکہ آنے والے خاندان سے پوچھ گچھ کر رہا ہے (فائل فوٹو)

اس بارے میں بدھ کو جب امریکی وزیرِ دفاع جِم میٹس سے صحافیوں نے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے محکمے سے اس بارے میں کردار ادا کرنے کو کہا گیا تو وہ اس کی تعمیل کریں گے۔ امریکی وزیرِ دفاع کے بقول، "ہم نے پہلے بھی تارکینِ وطن کو رکھا ہے۔ ہم نے زلزلوں اور طوفانوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کوبھی پناہ دی ہے۔ ہم وہ سب کرتے ہیں جو ملک کے بہترین مفاد میں ہوتا ہے۔"

موجودہ جیلوں میں گنجائش نہ ہونے کے باعث ہی ایگزیکٹو آرڈر میں عدلیہ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ زیرِ حراست خاندانوں کے مقدمات کی شنوائی کو ترجیح دیں اور انہیں جلد از جلد نبٹائیں۔

کیا ایگزیکٹو آرڈر وائٹ ہاؤس کے ماضی کے مؤقف سے متصادم ہے؟

صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیدار گزشتہ کئی روز سے یہ کہہ رہے تھے کہ صدر ٹرمپ سرحد پر تارکِ وطن والدین سے ان کے بچوں کو الگ کرنے کی پالیسی ختم کرنے کے مجاز نہیں اور اس بارے میں کانگریس کو ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ لیکن اب انہوں نے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرکے یہ پالیسی ختم کردی ہے۔

امیگریشن نظام میں اصلاحات کے بارے میں ارکانِ کانگریس کے اختلافات ابھی تک دور نہیں ہوسکے ہیں۔
امیگریشن نظام میں اصلاحات کے بارے میں ارکانِ کانگریس کے اختلافات ابھی تک دور نہیں ہوسکے ہیں۔

درحقیقت صدر ٹرمپ چاہ یہ رہے تھے کہ کانگریس تارکینِ وطن کے معاملات سے متعلق ایک جامع قانون منظور کرے جس میں تارکِ وطن والدین کو بچوں سے الگ کرنے کا مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ صدر کی تجویز کردہ امیگریشن اصلاحات اور میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر سمیت ان کے دیگر انتخابی وعدوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے جائیں۔

تو کانگریس کیا کر رہی ہے؟

ری پبلکن قانون ساز امیگریشن کے معاملے پر دو الگ الگ مسودۂ قانون تیار کرنے میں مصروف ہیں جنہیں ایوانِ نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔ لیکن بدھ کی شام تک ری پبلکنز کو دونوں قوانین منظور کرانے کے لیے درکار ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG