رسائی کے لنکس

logo-print

غیر قانونی تارکین وطن خاندانوں کے خلاف اقدام، ایوان میں بِل پیش


ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے تجویز کردہ ایک بِل میں کہا گیا ہے کہ وہ بچے جو اپنے والدین کے ہمراہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے ہیں، اُنھیں اپنے والدین کے ہی ساتھ رکھا کیا جائے گا، اُس صورت میں بھی جب اُن کے خاندان کو کسی حراستی مرکز میں رکھا جاتا ہے۔

ایسے میں جب ملک بھر میں مظاہرین نے اس بات پر احتجاج کیا ہے کہ امریکی سرحد پر بچوں کو اُن کے والدین سے الگ نہ کیا جائے، ایوان کے اسپیکر پال رائن نے ایک امیگریشن بِل پیش کیا ہے جس میں خاندان او بچوں کو الگ کرنے کے عمل کو بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

امریکہ نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے کہ تارکین وطن کے بچوں کے تحفظ کے لیے پھر سے ’ٹینٹ شیلٹر‘ کا نظام قائم کیا جائے گا۔

رائن نے جمعرات کو کہا کہ وہ امریکی سرحدوں پر غیر قانونی تارکین وطن کو علیحدہ کرنے کے عمل کے خلاف ہیں۔

بقول اُن کے، ’’ہم نہیں چاہتے کہ بچوں کو اُن کے والدین سے الگ کیا جائے۔ سرحد پر والدین اور بچوں کی علیحدگی کا معاملہ عدالت کے ایک حکم نامے کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اِسی لیے ہی ،میرے خیال میں، یہ قانون سازی ضروری ہے‘‘۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اپنائی گئی حالیہ ’زیرو ٹولرینس پالیسی‘ کے نتیجے میں سرحد پار کرنے والے بچوں اور والدین کو حراست میں لے کر ایک دوسرے سے علیحدہ رکھا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG