رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کے مواخذے کے طریقہ کار پر ہاؤس کمیٹی کا اجلاس


چیئرمیں ہاؤس جوڈیشری کمیٹی جیرالڈ نیڈلر، کمیٹی کے اجلاس میں تقریر کر رہے ہیں۔ 12 ستمبر 2019

ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہی میں ایوان نمائندگان جوڈیشری کمیٹی نے جمعرات کے روز ری پبلیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے سے منسلک تحقیقات میں تیزی لانے کی منظوری دی ہے، جس کے بعد قانون ساز یہ فیصلہ کرنے کے قریب پہنچ جائیں گے کہ آیا انہیں صدر کے مواخذے کی سفارش کرنی چاہیے یا نہیں۔

41 ارکان پر مشتمل جوڈیشری کمیٹی نے ایک قرارداد کی منظوری دی جس کا تعلق مواخذے کی کارروائی، گواہوں اور متعلقہ امور سے ہے۔

ووٹنگ کے بعد جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیرالڈ نیڈلر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کمیٹی نے 17 کے مقابلے میں 24 ووٹوں سے اس کی منظوری دی۔

امریکی ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی نے جمعرات کے روز صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے سے متعلق ایک نیا طریقہ کار طے کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب قانون ساز اسمبلی میں کارروائی کے 40 سے کم دن باقی رہ گئے ہیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اسمبلی یہ طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ مواخذے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔

ڈیموکریٹس کی اس سلسلے میں یہ کوشش کی تھی کہ اس معاملے پر ایک مباحثہ کیا جائے تاکہ اسے 2020 کے انتخابی سال میں ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ جب کہ ہاؤس اسپیکر نینسی پیلوسی نے اس پر زور دیا کہ ان کی پارٹی انہی تین اصولوں پر یقین رکھتی ہے جن کا تعلق قانون سازی، تفتیش اور عدالتوں میں مقدمے چلانے سے ہے۔

پیلوسی باضابطہ تحقیقات پر زور دیتی رہی ہیں جب کہ ہاؤس کمیٹی کے چیئرمین جیرالڈ نیڈلر نے جمعرات کے روز کہا کہ کمیٹی کے اہداف میں الفاظ کی اہمیت ثانوی ہے۔

جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ میں کمیٹی کے چیئرمین کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ معلومات کے تجزیے کے لیے کچھ اجلاس طے کریں جن میں یہ تعین کیا جائے کہ آیا مواخذے کے ضابطوں کی سفارش کی جائے۔ اجلاسوں میں گواہوں سے متعلق بھی طریقہ کار طے کیا جائے اور صدرٹرمپ کی قانونی ٹیم سے کہا جائے کہ وہ پیش کردہ معلومات کا تحریری جواب دے۔

خبررساں ادارے رائٹرز نے بتایا کہ ایوان نمائندگان کے 135 ڈیموکریٹ ارکان صدر ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں جب کہ مواخذے کو کامیاب بنانے کے لیے 218 ووٹوں کی ضرورت ہے۔

امریکہ کی تاریخ میں ایوان نے صرف دو صدور کے خلاف کامیاب مواخذہ کیا تھا، جن میں ایک اینڈریو جانسن تھے جن کا مواخذہ 1868 میں ہوا تھا جب کہ دوسرے صدر کلنٹن تھے جن کے مواخذے کی قرارداد 1999 میں منظور کی گئی تھی۔ دونوں صدور کی سزا کے بارے میں سینیٹ نے کچھ نہیں کیا۔

صدر نکسن نے 1974 میں اس کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جب ہاؤس کی جوڈیشری کمیٹی نے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی منظوری دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG