رسائی کے لنکس

نامزد انٹیلی جنس چیف کا روس سے متعلق 'شدید تحفظات' کا اظہار


ڈین کوٹس

کوٹس نے کہا کہ "میرے خیال میں اس معاملے کو سب لوگ جانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ روس نے یقینی طور پر (صدارتی انتخاب کی) مہم پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔"

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس نے روس کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے قانون سازوں کو منگل کو بتایا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماسکو نے نومبر 2016ء کے صدارتی انتخاب پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

انڈیانا کے سابق سینیٹر ڈین کوٹس نے سینٹ کی کمیٹی برائے انٹیلی جنس کو بتایا کہ روس نے "امریکہ کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی اپنی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ "انہوں نے امریکی انتخابات میں کریملن کے مبینہ کردار کی مکمل تحقیقات کروانے کی یقین دہانی کروائی۔

اپنی توثیق سے متعلق ہونے والی سماعت کے دوران 73 سالہ ریپبلکن کوٹس نے کہا کہ "اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیئے اور اس کو حل کرنا چاہیئے۔''

کوٹس نے کہا کہ "میرے خیال میں اس معاملے کو سب لوگ جانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ روس نے یقینی طور پر (صدارتی انتخاب کی) مہم پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔"

"وہ کس حد تک اس میں کامیاب رہے، میرا نہیں خیال کہ ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں۔"

تاہم کوٹس نے روس کے نئے جارحانہ انداز کو "انتہائی تشویش" کی بات قرار دیا۔

یہ موقف کوٹس اور ٹرمپ کے درمیان اختلاف کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹرمپ کے منصب صدارت سنبھالنے سے پہلے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کا دفتر اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ روس کی حمایت یافتہ کارندوں نے "امریکہ کے جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے لیے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے ای میلز سرور تک رسائی حاصل کی تھی۔''

تاہم چھ جنوری کو جاری ہونے والی رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ یہ اقدام اس وقت کے صدارتی امیدوار ٹرمپ کو کامیاب بنانے کی خواہش پر مبنی تھا۔

عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ کئی بار روسی صدر ولادیمر پوٹن کی تعریف کر چکے ہیں جو بعض قانون سازوں کے لیے اس وجہ سے تشویش کی بات ہے کہ اس کی وجہ سے (امریکی) انتظامیہ ماسکو کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریز کر سکتی ہے۔

کوٹس نے قانون سازوں کو یقین دہانی کروائی کہ "یہ ہمارا کام نہیں کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کسی بھی طور انٹیلی جنس کا کام متاثر ہو۔"

"میں کوئی بھی ایسی چیز برداشت نہیں کروں گا جو اس معیار پر پورا نا اترتی ہو۔"

کوٹس نے یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر ان کی توثیق ہو جاتی ہے تو وہ تمام متعلقہ مواد کو کانگرس کے تحقیقات کے لیے پیش کریں گے۔

اپنے ابتدائی بیان میں امریکہ کے لیے دیگر اہم خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کوٹس نے "بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی" کے خطرے کو بھی اس میں شامل کیا۔

انہوں نے بظاہر شدت پسند گروپ داعش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "وہ اپنی نام نہاد خلافت اور سائبر سپیس کے ذریعے خوف اور نفرت کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔ "

دوسری طرف کوٹس نے شمالی کوریا اور چین سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس کا عہدہ ستمبر 2001ء میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد ملک کے انٹیلی جنس کے 16 اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کو بہتر کرنا تھا۔

XS
SM
MD
LG