رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر ایرانی وزارتِ خارجہ کا شدید رد عمل


’’دیگر ممالک کے بارے میں بے کار اور تضحیک آمیز ٹویٹس پر وقت ضائع کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ کیلئے یہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنے ملک کے اندر نظر ڈالیں جہاں بقول اُس کے ہر روز درجنوں لوگ قتل کر دئے جاتے ہیں اور لاکھوں بے گھر افراد خوراک سے محروم سڑکوں پر گزارا کر رہے ہیں۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج منگل کے روز ایک تازہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ بالآخر ایران کے عوام اپنی ظالم اور بدعنوان حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سابق صدر اوباما نے ایران کو بھاری رقوم دے کر غلطی کی تھی اور یہ رقوم ایران میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے استعمال ہو ئیں یا پھر حکمرانوں کی جیبوں میں چلی گئیں۔

​اُنہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کو ناکافی خوراک اور افراط زر کا سامان ہے اور ایران کے لوگوں کو حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔اُنہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ایران پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

​اس سے قبل پیر کے روز ایک اور ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ سابق صدر اوباما کی طرف سے ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کے باوجود ایران کی ریاست ناکام ہو رہی ہے۔ ایران کے عظیم عوام برسوں سے حکمرانوں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور وہ خوراک اور جائز حقوق سے محروم ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایران کی دولت لوٹی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کے جواب میں رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ دیگر ممالک کے بارے میں بے کار اور تضحیک آمیز ٹویٹس پر وقت ضائع کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ کیلئے یہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنے ملک کے اندر نظر ڈالیں جہاں بقول اُس کے ہر روز درجنوں لوگ قتل کر دئے جاتے ہیں اور لاکھوں بے گھر افراد خوراک سے محروم سڑکوں پر گزارا کر رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام گھاسیمی نے ایر ان کے عوام سے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ یا امریکی اہلکاروں کے ایران مخالف بیانات پر کان نہ دھریں۔

ایران کے متعدد بڑے شہروں میں ملک میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے پر صدر حسن روحانی اور مجموعی طور پر ایرانی حکومت کے خلاف شدید مظاہرے جاری ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG