رسائی کے لنکس

logo-print

’یورپ غیر ملکی جنگجوؤں کو واپس لے، ورنہ انھیں سرحد پر چھوڑ دیا جائے گا‘


حلب (فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی دہرائی ہے کہ وہ پکڑے گئے داعش کے جنگجوؤں کو یورپ کی سرحد پر چھوڑ دیں گے، اگر یورپی ممالک اپنے تمام غیر ملکی عسکریت پسندوں کو واپس لینے سے انکار کا رویہ نہیں بدلتے۔

ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ وہ شام سے افواج کو واپس بلانے کی پالیسی پر قائم ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ خود ساختہ خلافت کے دہشت گرد گروپ کا صفایا کرکے امریکہ نے دنیا کے ساتھ بھلائی کی ہے، اور یہ کہ اب وقت آگیا ہے کہ دوسرے ممالک آگے بڑھیں۔

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم، اسکوٹ موریسن کے ساتھ ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم ان سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ان جنگی قیدیوں کو واپس لیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’انھوں نے انکار کر دیا ہے۔ اور کسی وقت مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ معاف کیجئے۔ یا تو آپ انہیں واپس لیں یا پھر ہم انہیں آپ کی سرحد پر لاکر چھوڑ دیں گے‘‘۔

پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کے معاملے پر ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں کو متنبہ کیا ہے۔

فروری میں یہ ٹوئیٹ کرنے کے بعد کہ داعش کی خلافت ’’ختم ہونے لگی ہے‘‘، صدر نے پکڑے گئے جنگجوؤں کو واپس لینے سے انکار پر اتحادیوں کو خبردار کیا تھا۔

دہشت گرد گروپ کے لیے داعش کا لفظ استعمال کرتے ہوئے، انھوں نے تحریر کیا تھا کہ ’’امریکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی اتحادیوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ دولت اسلامیہ کے 800 سے زائد جنگجوؤں کو واپس لیں جنھیں شام میں پکڑا گیا ہے، اور ان پر مقدمات چلائیں۔ اس کا متبادل بہتر نہ ہوگا، چونکہ ہم انھیں رہا کرنے پر مجبور ہوں گے‘‘۔
امریکہ کے حالیہ اندازوں کے مطابق، اتحاد کی حمایت یافتہ ’سیرئن ڈیموکرٹیک فورسز‘ (ایس ڈی ایف) نے شام کے شمال مشرقی علاقے کے قیدخانوں میں 2000سے زائد غیر ملکی جنگجوؤں کو قید کر رکھا ہے، جنھیں شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے دیگر جنگجوؤں کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔

امریکہ اور ایس ڈی ایف کے اہلکاروں نے خبردار کیا ہے کہ قیدخانوں سے بھاگ نکلنے کے واقعات عام ہوگئے ہیں، چونکہ متعدد تنصیبات جنھیں عارضی قیدخانوں کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا، ان میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

پینٹاگان میں داعش کو شکست دینے کی ٹاسک فورس کے سربراہ، کرس مائر نے بدھ کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’معاملہ تسلی بخش نہیں ہے۔ شمال مشرقی شام میں جیل افواج کے کنٹرول میں نہیں ہیں، جن میں دولت اسلامیہ کے 10000جنگجوؤں کو بند رکھا جا سکے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG