رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کم جونگ ان ملاقات، سول کے شہری پرامید


ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں صدر ٹرمپ اور کم جانگ ان کی سربراہی اجلاس کے لیے آمد کے موقع پر خیرمقدمی بینر لگائے گئے ہیں۔ 22 فروری 2019

امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کی دوسری ملاقات کے لیے ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں تیاریاں جاری ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان نے کوریائی جزیرہ نما کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے سنگاپور میں گزشتہ سال جون میں سمجھوتا کیا تھا۔ اس ملاقات میں دونوں رہنما اس سمجھوتے کو آگے بڑھانے پر بات کریں گے۔

گزشتہ ہفتے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس ملاقات سے متعلق اچھی امید ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلا ہفتہ بہت دلچسپ رہے گا۔ دوسری ملاقات ہونے والی ہے اور اس سے بہت فائدہ حاصل ہو گا۔ کم از کم مجھے یہی امید ہے کہ اس کے نتیجے میں شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ ہو گا۔

اس ملاقات کا نتیجہ جزیرہ نما کوریا کے رہنے والوں کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرے گا۔ اس لیے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سول کے شہریوں کے پاس اس بارے میں بات کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

طویل عرصے سے سول میں رہنے والے کوریائی امریکن ولیم چو اس بارے میں تو پر یقین نہیں ہیں کہ ہنوئی سربراہ ملاقات کا کیا نتیجہ نکلے گا لیکن انھوں نے مثبت خیالات کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ کم جونگ ان جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے شواہد پیش کریں گے۔ لیکن انھیں اقوام متحدہ اور امریکی کانگریس کی عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور دکھانا پڑے گا، کیونکہ انھیں اس کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انھیں اس کا بہت فائدہ ہو گا تو وہ کیوں جوہری ہتھیاروں کو برقرار رکھنا چاہیں گے؟

سربراہ ملاقات کے مقام پر احتجاج کرنے والی فریڈم یونین کے ترجمان کم سینگ جن نے جنوبی کوریا کے خلاف شمالی کوریا کی ماضی کی کارروائیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ 70 برسوں میں پیانگ یانگ کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ جوہری ہتھیاروں، میزائلوں، لانچرز اور تکنیکی ماہرین کے بارے میں مکمل تفصیل بیان کرنی چاہیے اور جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ کسی امر پر سمجھوتا کرنے کے بجائے اصولی موقف برقرار رکھنا چاہیے۔

سول کی شہری کم اون سوک نے ملاقات کو اچھا قرار دیا لیکن جوہری ہتھیاروں کے خاتمے اور دونوں کوریاؤں کے اتحاد کے بارے میں کہا کہ ہنوز دلی دور است۔

انھوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات اچھی بات ہے۔ لیکن کوئی امید رکھنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ شمالی کوریا ابھی تیار نہیں اور جنوبی کوریا بھی نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال شمالی اور جنوبی کوریا ایک دوسرے کے بارے میں ابھی بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

صدر ٹرمپ اور کم جونگ کے درمیان ملاقات بدھ اور جمعرات کو ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG