رسائی کے لنکس

ہم مارکیٹ پر وفاقی کنڑول بتدریج گھٹا رہے ہیں، صدر ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی ضابطوں میں کمی میں اپنی پیش رفت کی تشہیر کی ہے جن کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کی وجہ سے امریکہ کو کئی ٹریلین ڈالر ز خرچ کرنے پڑتے ہیں جب کہ عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

جمعرات کے روز وہائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ انتظامیہ نے اپنے ہدف سے زیادہ حاصل کر لیا ہے ۔ اور ہدف یہ تھا کہ ہر نیا ضابطہ لاتے ہوئے دو موجود ہ وفاقی ضابطے ختم کر دیے جائیں جب کہ انہوں نے ہر نیا ضابطہ لاتے ہوئے بائیس ضابطے ختم کیے ہیں۔

مخالفین نے ضابطوں میں کمی کی اس کارروائی کے کچھ حصوں پر تنقید کی ہے خاص طور پر انٹر نیٹ پر غیر جانبدار ی کے ان دو سال پرانے ضابطوں کے خاتمے پرجو انٹر نیٹ پر مساوی رسائی کی ضمانت دیتے ہیں۔

جمعرات کے روز ری پبلکن کنٹرول کے فیڈرل کمیونی کیشنز کمیشن، ایف سی سی نے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں پر انٹرنیٹ پر غیر جانبدار ی سےمتعلق عائد ضابطوں میں نرمی کے حق میں ووٹ دیا۔

ایف سی سی کے چیئرمین نے، جنہیں ٹرمپ نے مقرر کیا ہے، کہا کہ اس اقدام سے وفاقی حکومت کی جانب سے انٹر نیٹ کی جزیات کی سطح تک پر کنٹرول کا خاتمہ ہو تا ہے۔

ایف سی سی کے چیئرمین اجیت پائی نے کہا کہ میرا خیال ہے اور عوامی ریکارڈ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقدام انٹر نیٹ کو آزاد اور کھلا رکھنے کے لیے بہترین ضابطہ ہے جب کہ اس سے انفرا اسٹرکچر اور اختراعات پر سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔

لیکن صارفین کی نمائندگی کرنے والوں اور بہت سے امریکیوں کا خیال ہے کہ ضابطے ختم کرنے سے دولت مند کمپنیوں کو انٹر نیٹ پر مزید رسائی حاصل ہو جائے گی۔

صارفین کے حقوق کی ایک علمبردار تنظیم کوڈ پنک کے لینی بیانکی کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے پاس انٹر نیٹ پر غیر جانبداری ضابطہ ہے تو یہ ہر اس پراپیگنڈے کی راہ میں ایک رکاوٹ کا کام کرتا ہے جو یہ کمپنیاں یا حتیٰ کہ جو حکومت بھی کرنا چاہتی ہے ۔ اس لیے ہمیں اس نرمی کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمیں ایک کھلا اور آزاد انٹر نیٹ چاہیے۔ ایسا نہیں جس میں مواد، رفتار اور رسائی کمپنیوں کے مفادات کے کنٹرول میں ہو، جو روایتی طور پر عام لوگوں کے مفاد میں نہیں ہوتا۔

ایف سی سی کے متنازع فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وفاقی ضابطے کاروبار اور ترقی کے لیے اچھے نہیں ہیں اور وہ ان میں کمی کا وعدہ کرچکے ہیں۔

جمعرات کے روز انہوں نے بتایا کہ سرخ فیتے کے نظام میں کتنی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس یہ نظام ہے، یہ وہ مقام ہے جس پر ہم 1960 کی دہائی میں تھے ۔ اور جب ہم یہ کام ختم کرلیں گے جس میں اب بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا تو ہمارے پاس اس سے کم ضابطے ہوں گے جتنے ہمارے پاس 1960 کی دہائی میں تھے اور ہمارے پاس انٹر نیٹ کو چلانے کے لیے ایک بہت اچھا ماحول ہو گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ جب سے انہوں نے اپنا منصب سنبھالا ہے پہلے ہی بہت کام ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپنے اقتدار کے پہلے گیارہ ماہ میں ہم نے ضابطوں سےمتعلق 1500 مجوزہ اقدامات منسوخ یا مؤخر کر دیے ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی سابقه صدر کے اقدامات سے زیادہ ہے۔ اور ان کے اثرات آپ کو اس وقت نظر آتے ہیں جب آپ اسٹاک مارکیٹ کو دیکھتے ہیں، جب آپ کمپنیوں کی کار کردگی کو دیکھتے ہیں اور جب آپ کمپنیوں کو اپنے ملک میں واپس آتا دیکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی توانائی، کوئلے اور موٹر گاڑیوں کی صنعتوں اور طویل مدت کے انفرا اسٹرکچر پراجیکٹس پر سے پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں مثلاً کی اسٹون ایکس ایل اور ڈکوٹا ایکسیس پائپ لائنز ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی معیشت کو مسابقت اور عالمی اسٹیج پر سبقت حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ تعداد میں موجود اور فرسودہ ضابطے ختم کر نے میں ابھی بھی کئی عشرے لگیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG