رسائی کے لنکس

مذاکرات بامعنی نظر نہ آئے تو کم سے ملاقات ادھوری چھوڑ دوں گا: ٹرمپ


صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اُن سے ممکنہ ملاقات کے بارے میں رجائیت کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر انھیں ایسا لگا کہ یہ مذاکرات "بامعنی نہیں ہوں گے" تو وہ یا اسے منسوخ کر دیں گے یا پھر اس سے اٹھ کر چلے جائیں گے۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے کے ہمراہ فلوریڈا میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی انتظامیہ شمالی کوریا میں قید تین امریکی شہریوں کی رہائی کے بارے میں بھی پیانگ یانگ کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "اگر میں یہ سمجھا کہ یہ ملاقات نتیجہ خیز نہیں ہوگی، تو ہم اس سے علیحدہ ہو جائیں گے۔۔۔جب میں وہاں ہوں اور یہ ملاقات بامعنی نہیں ہوتی تو میں نہایت احترام کے ساتھ وہاں سے چلا جاؤں گا۔"

ان کے بقول ایک مذاکرات کے طور پر وہ "لچک" کا مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ "میرا خیال ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے، لیکن اگر کسی بھی وجہ سے مجھے یہ لگا کہ ایسا نہیں ہو گا تو ہم یہ (مذاکرات) ختم کر دیں گے۔"

ٹرمپ اپنے معاونین کو یہ کہہ چکے ہیں کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ ان کی ملاقات پر کام کریں اور توقع ہے کہ یہ ملاقات مئی کے اواخر یا جون کے اوائل میں ہو سکتی ہے۔

تقریباً دو ہفتے قبل ہی امریکی انٹیلی جنس ادارے 'سی آئی اے' کے سربراہ مائیک پومپیو نے پیانگ یانگ کا دورہ کیا جہاں اطلاعات کے مطابق ان کی کم جونگ اُن سے ملاقات بھی ہوئی۔ اس دورے کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ "منصوبہ بندی بہت ہموار اندار میں آگے بڑھ رہی ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG