رسائی کے لنکس

logo-print

اوپیک کی جانب سے پیٹرول کے نرخ بڑھانے پر ٹرمپ کی تنقید


فائل

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تیل کے نرخ بہت زیادہ ہیں، جس کے ذمہ دار پیٹرول برآمد کرنے والے ممالک ہیں۔

ٹرمپ نے بدھ کو ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’تیل کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ ذمے دار پھر اوپیک ہے۔ یہ ٹھیک نہیں!‘‘۔

اوپیک کے تیل پیدا کرنے والے 14 ملک جن میں سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور ونزویلا شامل ہیں، دنیا کا تقریباً 40 فی صد پیٹرول پیدا کرتے ہیں۔ لیکن، بین الاقوامی منڈیوں میں تقریباً 60 فی صد تیل کا کاروبار اِنہی سے وابستہ ہے۔

پیٹرول کی پیداوار میں کمی یا بیشی لانے سے تعلق رکھنے والے اوپیک کے اقدامات اکثر تیل کی قیمتوں پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں، اور صارفین اور کاروباری اداروں کی جانب سے ایندھن پر اٹھنے والی لاگت انہی درآمد کنندگان سے تعلق رکھتی ہے۔

اوپیک کے تیل برآمد کرنے والے سربراہان نے 2016ء میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے جس سے 18 لاکھ بیرل یومیہ کی کٹوتی عمل میں لائی گئی، تاکہ پیٹرول کی عالمی دستیابی کو کم کیا جاسکے اور قیمت زیادہ میسر آئے۔ تب سے، تیل کے نرخ 30 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر فی بیرل 70 ڈالر سے زیادہ ہو چکے ہیں۔

لیکن پیداوار میں کٹوتی کا معاملہ اس سال کے آخر تک ختم ہوجائے گا۔ اوپیک پیداوار کی نئی سطح کے بارے میں فیصلہ کرنے والی ہے، جب کہ اس ہفتے ویانا میں تیل پیدا کرنے والے وزرا کا ایک اجلاس ہونے والا ہے۔

توانائی کے سعودی وزیر خالد الفالح نے اپریل میں کہا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھی ہوئی قیمتیں ہی مناسب ہیں، جس بیان پر فوری ردعمل میں ٹرمپ نے اس پر تنقید کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG