رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کا پاکستان پر بیان سوچا سمجھا تھا یا جوش خطابت؟


صدر ٹرمپ اوول آفس میں روئیٹرز کے ساتھ اپنے انٹرویو میں ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ 20 اگست 2018

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو کے دوران پاکستان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ 15 برسوں میں 33 ارب ڈالر کی امداد کے باوجود پاکستان نے امریکہ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ بن لادن کو کئی برس تک، ان کے بقول پناہ دی گئی۔

انٹرویو کے بعد صدر کے ٹوئیٹر اکاؤنٹس سے اسی انٹرویو سے کچھ جملے ٹویٹ کیے گئے تو پاکستان سے وزیراعظم عمران خان، کابینہ کے وزرا حتی کہ حزب اختلاف کے راہنماؤں نے بھی جواباً سخت پیغامات جاری کیے اور کہا گیا کہ امریکہ افغانستان کے اندر اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے اور یہ کہ امریکہ کو خوش رکھنے کی حکمت عملی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے متعلق جو کچھ کہا وہ سوچا سمجھا تھا؟ یا وہ برسبیل تذکرہ بہت کچھ کہہ گئے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اپنے نقاد سابق نیوی سیل ایڈمرل میک ریون پر اپنی تنقید سے متعلق سخت سوالات سے گریز کرتے ہوئے محض موضوع بدل رہے تھے؟

اگر موضوع بدلنا مقصود تھا تو پھر انٹرویو سے پاکستان سے متعلق ریمارکس کیونکر ٹویٹ کیے گئے؟ صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاونٹ کون چلاتا ہے اور وائٹ ہاؤس کا ٹویٹس کی ساخت، مواد، موضوعات اور الفاظ کے چناؤ میں کیا کردار ہوتا ہے؟ یہ سوالات کیے گئے وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے پروگرام جہاں رنگ میں صدر ٹرمپ کے لیے مسلم فار ٹرمپ نامی مہم کے بانی پاکستانی امریکن سرگرم شخصیت ساجد تارڑ اور تجزیہ کار کامران بخاری سے۔

کامران بخاری کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ تو ایسے ٹویٹس بھی کر جاتے ہیں جس میں املا کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے فاکس نیوز کے ساتھ مسٹر ٹرمپ کا انٹرویو غور سے دیکھا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صدر ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں اظہار خیال موضوع کا حصہ نہیں تھا۔ میزبان نے جب بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن میں شامل ایڈمرل میک ریون پر صدر ٹرمپ کو ان کی تنقید پر چیلنج کیا تو کامران بخاری کے بقول، ٹرمپ بظاہر موضوع سے گریز کرتے ہوئے پاکستان پر ’’جمپ ‘‘ کر گئے۔

لیکن اگر پاکستان موضوع نہیں تھا تو پھر صدر کے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے پاکستان کے بارے میں ہی ان کے جملے کیوں ٹویٹ کیے گئے؟ کیا میڈیا اداروں کی ڈیجیٹل ٹیموں کی طرح جیسے وہ اپنے گھنٹے بھر کے پروگرام سے ایک آدھ چٹخارے دار جملے کو کاٹ پیٹ کر سوشل میڈیا پر ڈالتی ہیں، کیا حکومتیں اور قیادتیں بھی اپنے جملوں کو وائرل ہوتا دیکھنا چاہتی ہیں؟

کامران بخاری کے بقول بالکل ایسا ہی ہے۔ پبلک ریلیشن مشینیں ہر وقت مصروف عمل ہیں۔ لگتا ہے صدر ٹرمپ کو خیال آیا ہو گا کہ ان کا پاکستان کے بارے میں کہا گیا جملہ اہم ہے تو انہوں نے خود ٹویٹ کر دیا ہو گا یا اپنی میڈیا ٹیم سے کہا ہو گا کہ اس کو ٹویٹ کریں۔ عام طور پر باقاعدہ سوچ بچار کے بعد ٹویٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ کئی بار تو پہلے ڈرافٹ لکھے جاتے ہیں اور اسی لیے کئی بار غلطیاں بھی رہ جاتی ہیں۔

ساجد تارڈ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ ایک خیال کی رو میں بہت کچھ کہہ گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’ میرے خیال میں صدر ٹرمپ جوش خطابت میں پاکستان پر بات کر گئے۔ ان کا اصل ہدف ایڈمرل میک ریون تھے جو ممکنہ طور پر (ان کے بقول) آئندہ صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں اور اکثر ٹرمپ پر تنقید کرتے رہتے ہیں‘‘۔

ساجد تارڑ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان پر سوچی سمجھی تنقید نہیں تھی، کیونکہ آج کل، ان کے بقول پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اچھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ جو کہنا چاہتے ہیں، بلا جھجھک کہہ جاتے ہیں اور وہ اپنا ٹوئیٹر اکاؤنٹ زیادہ تر خود دیکھتے ہیں حالانکہ وائٹ ہاؤس میں ایک میڈیا ڈائریکٹر بھی ہے مگر صدر ٹرمپ کی یہی بے ساختگی ان کے حامیوں کو بہت پسند ہے۔

کامران بخاری، ساجد تارڈ اور سابق وفاقی وزیر اور امریکہ کے لیے پاکستان کی سابق سفیر سیدہ عابدہ حسین نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو صدر کے اس بیان اور ٹویٹ کو اس قدر سنجیدہ لینے کے بجائے نظر انداز کرنا چاہیے تھا۔

مزید تفصیلات کے لیے اس آڈیو لنک پر کلک کریں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:04:35 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG