رسائی کے لنکس

logo-print

کیا امریکی صدر خود کو معافی دینے کا اختیار رکھتا ہے؟


صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل کے اس بیان کے بعد کہ وہ بحیثیت صدر خود کو بھی معافي دینے کا اختیار رکھتے ہیں، امریکہ میں ایک نئی دلچسپ بحث شروع ہو گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی نے یہ بات ایک امریکی ٹیلی وژن چینل اے بی سی کو اپنے انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کے پاس معاف کرنے کی طاقت ہے، لیکن ان کا اس طرح کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

صدر کے اختیارات اور معافي کی کہانی کا تعلق ان الزامات سے ہے کہ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں کامیابی روس کی مبینہ مداخلت سے جڑی ہے۔

خصوصي کونسل رابرٹ مولر ان دنوں صدارتی میں مبینہ روسی مداخلت اور صدر ٹرمپ کی جانب سے انصاف کی رہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ مسئلہ دن بدن اہمیت حاصل کرتا جا رہا ہے۔

معافي کی بحث کا آٖٖغاز نیویارک ٹائمز میں صدر ٹرمپ کے شائع ہو نے والے ایک خط سے ہوا جو انہوں نے خصوصي کونسل کو لکھا تھا۔ خط میں انہیں باور کرایا گیا تھا کہ ملک کی سربراہ ہونے کی حیثیت سے ان کے پاس کسی بھی تفتیش کو ختم کرنے اور معاف کرنے کی طاقت اور اختیارات موجود ہیں۔

خصوصي کونسل یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں روسی مداخلت یا ساز باز شامل تھی یا نہیں۔ صدر ٹرمپ اور روس دونوں ہی اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

ان تحقیقات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کونسل یہ تعین کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا صدر نے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں تو نہیں ڈالیں۔

جب کہ امریکی انٹیلی جینس پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ ماسکو نے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔

آیا امریکی صدر آئینی اور قانونی طور پر خود کو معافی دینے کا اختیار رکھتا ہے اور اگر کسی بھی مرحلے پر صدر ٹرمپ نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو بحیثیت صدر ان پر اس اقدام کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اور ملکی سیاست میں اسے کیسے دیکھا جائے گا۔

اس بارے میں نیویارک کے اٹارنی افضال سپرا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی سیکشن 2 کی شق ایک کے تحت ، صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مجرم کی سزا معاف کر دے سوائے اپنے مواخذے کے تحت سامنے آنے والی اپنی سزا کے ۔

انہوں نے کہا کہ امریکی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جب کسی صدر نے خود اپنی کسی سزا پر معاف کیا ہو۔

افضال سپرا کا کہنا تھا کہ آئین میں اس بارے میں واضح طو ر پر کچھ نہیں کہا گیا ہے اس لیے اگر صدر نے کسی مرحلے پر ایسا کیا تو ان کا معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا جو یہ تعین کرے گی کہ آیا وہ خود کو معاف کر سکتے ہیں یا نہیں ۔

تاہم اٹارنی افضال سپرا کہتے ہیں کہ صدر نے اگر ایسا کیا تو اس کے ان کی ذاتی ساکھ بری طرح متاثر ہو گی ، کیوں کہ خود کو معاف کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے پہلے تو اپنے جرم کو تسلیم کر لیا اور اس کے بعد خود کو معاف کیا تو کوئی بھی صدر اگر کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے توصدر کے طور پر اس کی حیثیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں اور اسے کانگریس کی جانب سے مواخذے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

نیو یارک کی بفلو یونیورسٹی میں انٹر نیشنل ریلیشنز کے پروفیسر فیضان حق نے جو امریکی تاریخ اور آئین میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، کہا کہ امریکی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے ، ہاں البتہ ایسا ضرور ہوا ہے کہ صدر نکسن کی سزا کو ان کے مستعفی ہونے کے بعد ملک کے وائس پریذیڈنٹ نے معاف کر دیا تھا اور یوں وہ خود کو درپیش مشکل صورتحال سے باعزت نکالنے میں کامیاب ہو سکے تھے۔

فیضان حق نے کہا کہ اگرچہ بظاہر کوئی ایسی صورت نظر نہیں آتی کہ صدر ٹرمپ کسی ایسی مشکل میں گرفتا ر ہوں گے جب انہیں خود کو خود ہی معاف کرنا پڑے تاہم اگر ایسے حالات پیش آئے اور صدر نے اس قسم کے کسی اقدام کی کوشش کی تو یہ ان کے لیے اچھا نہیں ہو گا اور اس سے ایک اخلاقی بحران کے ساتھ ساتھ ایک آئینی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG