رسائی کے لنکس

پوپ سے ملاقات کے بعد، ٹرمپ ’’امن کی کوششوں میں پُرعزم‘‘


دی ویٹیکن میں پوپ فرینسس سے وسیع جہتی بات چیت کے بعد، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’’دنیا میں امن کو فروغ دینے کے معاملے پر پہلے سے زیادہ پُرعزم‘‘ ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ دونوں فریق نے اس بات پر غور کیا کہ شام، لیبیا اور داعش کے زیر کنٹرول علاقوں جیسے مقامات پر ’’انسانی تکالیف میں کمی لانے کے لیے مذہبی برادریاں کس طرح مل کر کام کر سکتی ہیں‘‘۔

ایک بیان میں، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ’’صدر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ’ہولی سی‘ متعدد یکساں بنیادی اقدار کے حامل ہیں؛ اور انسانی حقوق کے فروغ، انسانی تکالیف میں کمی لانے اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے سلسلے میں عالمی سطح پر کس طرح مل کر کام کیا جا سکتا ہے‘‘۔

ٹوئٹر بیان میں ٹرمپ نےہونے والی ملاقات کو ’’زندگی بھر کے لیے عزت‘‘ کا باعث قرار دیا۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے کہا ہے کہ ویٹیکن کے سینئر اہل کاروں سے ٹرمپ کی گفتگو کے دوران پیرس کا موسمیات کے سمجھوتے کا معاملہ زیر بحث آیا۔

اُنھوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’صدر نے عندیہ دیا ہے کہ ہم اس بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں، اور یہ کہ اُنھوں نے اس سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک دورے کے بعد، ٹرمپ اس معاملے سے متعلق فیصلہ کریں گے۔

اس سے قبل موصولہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو ویٹیکن میں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کے درمیان بدھ کو ملاقات کی۔

تیس منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں ٹرمپ نے پوپ سے کہا کہ یہ "میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔"

صدر سے علیحدگی میں ملاقات کے بعد پوپ فرانسس نے امریکی وفد میں شامل ارکان سے مختصر ملاقات کی۔ ان میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ بھی شامل تھیں جنہیوں سیاہ لباس زیب تن اور سر کو سیاہ جالی دار کپڑے سے ڈھک رکھا تھا۔

اس دوران تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔ صدر نے پوپ کو کتابوں کو تحفہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ "یہ آپ کے لیے ایک تحفہ ہے، یہ مارٹن لوتھر کنگ کی کتابیں ہیں، میرا خیال ہے کہ آپ کو لطف آئے گا۔"

پوپ نے ٹرمپ کا ایک رومن آرٹسٹ کا تیار کردہ میڈل پیش کیا جس پر ایک زیتون بنا ہوا تھا جو کہ امن کی علامت ہے۔

صدر نے تحفہ قبول کرتے ہوئے کہا کہ "ہم امن کو استعمال کر سکتے ہیں۔" پوپ نے ٹرمپ سے کہا کہ "میں نے اس پر خود دستخط کیے ہیں۔"

پوپ فرانسس نے امریکی صدر کو تین کتابوں کا تحفہ بھی دیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ وہ انھیں ضرور پڑھیں گے۔

ان دونوں شخصیات کے دوران لفظی طور پر تلخی گزشتہ سال دیکھنے میں آئی تھی جب ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

پوپ کا اُس وقت کہنا تھا کہ جو کوئی بھی پلوں کی بجائے دیواروں کے بارے میں سوچتا ہے "مسیحی نہیں ہے۔" اس بیان کو ٹرمپ نے "شرمناک" قرار دیا۔

بعد ازاں اٹلی کے قائدین سے ملاقات کر کے ٹرمپ برسلز روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ نیٹو اجلاس میں شرکت کریں گے۔

صدر دوبارہ اٹلی آئیں گے اور جمعہ اور ہفتہ کو جزیرہ سسلی میں گروپ سیون کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

قبل ازیں منگل کو اپنے دورہ اسرائیل میں ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے راہنما "امن تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں۔"

ٹرمپ نے پیر کو اسرائیل کے وزیراعظم بنجیمن نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی اور منگل کو فلسطینی راہنما محمود عباس سے ملاقات اور مغربی کنارے کا دورہ کر کے وہ ایک بار پھر نیتن یاہو سے ملے تھے۔

اپنے پہلے سرکاری غیر ملکی دورے پر صدر ٹرمپ گزشتہ ہفتہ سعودی عرب گئے تھے جہاں عرب اسلامک امریکن کانفرنس میں شرکت کے علاوہ اسلامی دنیا کے اس اہم ملک کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط بھی کیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG