رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ اور پوتن کا شام کے مسئلے کے سفارتی حل کی کوششوں پر اتفاق


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمر پوتن نے منگل کو ٹیلی فون پر بات کی۔

گزشتہ ماہ شام میں سرکاری فورسز کی طرف سے شہریوں پر کیمیائی حملے کے ردعمل میں شام کے فضائی اڈے پر امریکی کروز میزائل حملوں کی روسی مذمت کے بعد دونوں راہنماوں کی پہلی ٹیلی فونک گفتگو ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں راہنماوں نے شام کی خانہ جنگی اور شمالی کوریا سے متعلق صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

روسی میڈیا نے کریملن کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیلی فون کال تعمیری رہی۔

کریملن کے مطابق دونوں راہنماوں نے اتفاق کیا کہ ان کے اپنے اپنے وزارئے خارجہ سرگئی لاوروف اور ریکس ٹلرسن شام کے چھ سالہ تنازع میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ ترتیب دیں۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ "صدر ٹرمپ اور صدر پوتن نے اتفاق کیا کہ شام کے صورتحال بہت حد تک خراب ہو چکی ہے اور تمام فریقین کو یہ تشدد بند کرنے کے لیے اقدام کرنا ہوں گے۔

شام میں جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت بدھ کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہو رہی ہے۔ روسی کی طرف سے منعقدہ اس کانفرنس میں امریکی نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

منگل کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں ٹرمپ اور پوتن نے شام میں "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کاموں اور دیرپا امن کے لیے محفوظ زونز" وضع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ٹرمپ کے گزشتہ سال نومبر میں انتخاب جیتنے کے بعد سے یہ پوتن کے ساتھ ان کا تیسرا ٹیلی فونک رابطہ تھا۔ اس سے قبل اپریل میں روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں دہشت گرد حملے اور جنوری میں ٹرمپ کے باضابطہ امریکی اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں کے مابین فون پر بات چیت ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG