رسائی کے لنکس

logo-print

روس سے متعلق چھان بین بند کی جائے، ٹرمپ کا سیشنز سے مطالبہ


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اٹارنی جنرل جیف سیشنز پر زور دیا کہ خصوصی کونسل رابرٹ موئلر کی جانب سے سال 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات پر مبینہ روسی مداخلت کے معاملے پر تفتیش کو بند کریں، حالانکہ ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل سیشنز نے اپنے آپ کو چھان بین کے عمل سے الگ کر لیا تھا، چونکہ اُن کے روس کے ساتھ رابطے رہ چکے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کی صدارتی انتخابی مہم کی جانب سے روس سے رابطوں کے بارے میں موئلر کی 14 ماہ سے جاری تفتیش ’’انتہائی وحشتناک صورت‘‘ اختیار کر چکی ہے۔

اُنھوں نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا ہےکہ سیشنز ’’اب دھاندلی کی داستان بند کریں، قبل اِس کے کہ اس سے ہمارے ملک پر کوئی مزید دھبہ لگے‘‘۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ ’’بوب موئلر مکمل طور پر پھنس کر رہ گئے ہیں، اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے 17 ناراض نمائندوں کے غلیظ کام میں الجھ گئے ہیں، جو معاملہ امریکہ کے لیے ذلت کا باعث ہے‘‘۔

ٹرمپ کی جانب سے سیشنز پر یہ دباؤ ایسے میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم کے سابق سربراہ، پال منافورٹ کے خلاف ٹیکس اور بینک دھوکہ دہی مقدمے کی سماعت کا آج دوسرا دِن ہے۔

صدر نے ایک اور ٹوئیٹ میں اِس مقدمے کو ’’ایک فریب‘‘ قرار دیا ہے؛ جو واشنگٹن سے باہر واقع کمرہٴ عدالت میں ہونے والی سماعت سے اپنے آپ کو دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منافرٹ پر الزام ہے کہ اُنھوں نے یوکرین کے معطل شدہ مطلق العنان، وکٹر ینوکاوچ کی حمایت کے لیے لاکھوں ڈالر وصول کیے، جن پر اُنھوں نے پردہ ڈالے رکھا، جس کے کچھ ہی سال بعد اُنھوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ساتھ کام کیا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’پال منافرٹ رونالڈ ریگن، باب ڈول، اور متعدد دیگر انتہائی معروف اور عزت دار سیاسی قائدین کے ساتھ کام کر چکے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ منافرٹ نے اُن کے لیے بہت ہی کم عرصے کے لیے کام کیا۔

بقول اُن کے ’’حکومت نے مجھے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ زیر تفتیش ہیں۔ اِن پرانے الزامات کا روس کے ساتھ من گھڑت گھٹ جوڑ سے کوئی واسطہ نہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG