رسائی کے لنکس

logo-print

آئل ٹینکرز پر حملے سے ایران کا اصل چہرہ سامنے آگیا: ٹرمپ


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ایک دہشت گرد قوم ہے اور آئل ٹینکرز پر حالیہ حملوں میں ایران کے ملوث ہونے سے اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔

جمعے کو امریکی ٹی وی 'فوکس نیوز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران کی فوج حملے کا نشانہ بننے والے آئل ٹینکر سے بارودی سرنگ ہٹا رہی ہے۔

صدر نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی غلطی نہ کرے۔ ان کے بقول اگر اس نے ایسا کیا تو یہ گزرگاہ زیادہ دیر تک بند نہیں رہے گی۔

کشیدگی کے خاتمے کے لیے عالمی کوششیں

دریں اثنا عرب لیگ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ محتاط رویہ اپناتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

جمعرات کو خلیجِ عمان میں حملوں کا نشانہ بننے والے جہازوں کا تعلق ناورے اور جاپان کی شپنگ کمپنیز سے تھا جن پر ہونے والے دھماکوں کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔

جمعے کو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات کے بعد عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیث نے کہا کہ جمعرات کو کیے جانے والے حملوں سے متعلق متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کا تعین ہونا چاہیے اور انہیں امید ہے کہ بہت جلد حقائق سامنے آ جائیں گے۔

امریکہ نے ایران پر الزام لگایا تھا کہ وہ خلیجِ عمان میں تیل بردار جہازوں پر حملے میں ملوث ہے۔

امریکہ کی جانب سے ایک ویڈیو بھی ریلیز کی گئی تھی جس میں ایرانی فوج کی کشتیوں کو حملے کا نشانہ بننے والا ایک آئل ٹینکر سے وہ مبینہ بارودی سرنگ اتارتے دیکھا جا سکتا ہے جو امریکی حکام کے بقول پھٹنے سے رہ گئی تھی۔

جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ وہ "ایرانی بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ محتاط رہیں اور پیچھے ہٹ جائیں۔ خطے کو تصادم کی طرف نہ دھکیلیں۔ اگر ایسا ہوا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔"

خلیجِ عمان آبنائے ہرمز کے نزدیک واقع ہے جو تیل کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے۔
خلیجِ عمان آبنائے ہرمز کے نزدیک واقع ہے جو تیل کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے۔

برطانیہ کا امریکہ سے اتفاق

خطے میں جاری حالیہ کشیدگی پر برطانیہ نے امریکی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے تیل بردار جہازوں پر حملے کا ذمہ ایران کو ٹھہرایا ہے۔

برطانوی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ "برطانیہ کو دستیاب معلومات کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملے پاسدرانِ انقلاب نے کیے۔ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات میں چار آئل ٹینکرز پر حملوں کا ذمہ دار بھی ایران ہے۔"

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جرمی ہنٹ نے کہا ہے کہ ایرانی قیادت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سوچ پر عمل پیرا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خلیج عمان میں ہونے والے حملوں کی غیر جانب دار تحقیقات کروانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عرب لیگ کے سربراہ سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انتونیو گوتیرس نے کہا کہ ہمیں ہر صورت خطے میں تصادم سے بچنا ہے۔

انھوں نے کہا اقوامِ متحدہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے تاہم ان کے بقول موجودہ صورتِ حال میں فریقین کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

جاپان نے کہا ہے کہ اس کے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے اور واقعے میں جو بھی ملوث ہے اس کا تعین ضروری ہے۔

جاپانی محکمہؑ خارجہ کے ترجمان نے واقعے کو جاپان کی خود مختاری اور سالمیت پر حملہ قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی سیکورٹی سخت کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

روس کا ردِ عمل

روس کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرانا قبل از وقت ہے۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔

روسی وزراتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریک نے 'ایران فوبیا' کا شکار ہو کر خطے میں مصنوعی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایران بھی امریکہ کے حالیہ الزامات کو سختی سے مسترد کرچکا ہے۔

ایران کے سرکاری ریڈیو نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا ایک بیان نشر کیا تھا جس میں ترجمان نے آئل ٹینکروں پر حملے میں ملوث ہونے کے امریکی الزام کو سختی سے مسترد کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے حملوں کا نشانہ بننے والے دونوں آئل ٹینکرز کے عملے کو کم سے کم وقت میں امداد پہنچائی اور انہیں جہازوں پر سے نکالا۔

ترجمان نے کہا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کے مشتبہ اور افسوس ناک واقعات کا الزام ایران پر لگانا امریکی حکام کے لیے کتنا آسان ہے۔ لیکن ان کے بقول اس طرح کے الزامات خطرناک رجحان ہیں۔

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران اس علاقے میں تیل لے جانے والے بحری جہازوں پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل مئی میں بھی متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ کے نزدیک کھلے سمندر میں چار آئل ٹینکرز پر حملہ ہوا تھا جس کا الزام امریکہ اور سعودی عرب نے ایران پر لگایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG