رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمر پوتن کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر براک اوباما سے بہتر رہنما رہے ہیں۔

این بی سی نیوز فورم میں ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا ک وہ سمجھتے ہیں کہ بطور صدر ان کے "پوتن کے ساتھ اچھے تعلقات ہوتے۔" ان کے بقول داعش کو شکست دینا روس اور امریکہ کا مشترکہ مفاد ہے۔

"روس داعش کو اتنی ہی بری طرح شکست دینا چاہتا ہے جتنا کہ ہم۔ اگر ہمارے روس کے ساتھ تعلقات اچھے ہوتے تو یہ زبردست نہ ہوتا، ہم اس بارے میں مل کر کام کر سکتے اور داعش کو ہرا دیتے۔"

مزید برآں انھوں نے اوباما کی زیر صدارت عراق میں فوجی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "اس میں جنرلز کامیاب نہیں ہو سکے۔" ٹرمپ نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ امریکہ کو عراق کے تیل پر قبضہ کرنا چاہیے تھا۔

"اگر ہم عراق کے تیل پر قبضہ کر لیتے تو آپ کو کو داعش دیکھنے کو نہ ملتا، کیونکہ داعش تیل کی طاقت اور دولت سے وجود میں آیا۔"

انھوں نے کہا کہ وہ "عراق کی جنگ کے بالکل خلاف تھے۔

اسی فورم کے تحت ایک علیحدہ انٹرویو میں ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ "استحکام" سب سے اہم خصوصیت ہے جو کہ ایک صدر میں ہونی چاہیئے۔ ان کے حریف ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ووٹرز سے کہا تھا کہ وہ ان کے مزاج یا فیصلوں کے بارے میں پریشان نہ ہوں۔

کلنٹن کا کہنا تھا کہ ایک صدر کو ایسا ہونا چاہیئے کہ وہ بات سنے، جو اسے بتایا جائے اس کا جائزہ لے اور مزاج اور فیصلہ اس ضمن میں بہت اہم ہے۔

انھوں نے فوجی طاقت کے استعمال کو آخری حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق میں جنگ ایک غلطی تھی اور انھوں نے اعتراف کیا کہ بحیثیت سینیٹر انھوں نے اس کی حمایت کر کے غلطی کی تھی۔

ان کے بقول امریکہ دوبارہ عراق میں "کبھی بھی" زمینی فوج نہیں بھیجے گا۔

ایران کے جوہری معاہدے پر بات کرتے ہوئے کلنٹن نے کہا کہ اس نے تہران کے جوہری پروگرام کو روک دیا۔ ان کے بقول امریکہ کو داعش کے خلاف لڑائی میں اپنے عرب اتحادیوں سے مزید حمایت حاصل کرنا ہوگا۔

کلنٹن اور ٹرمپ کے مابین پہلا براہ راست مباحثہ 26 ستمبر کو ہو گا جو کہ آٹھ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل تین مباحثوں میں سے پہلی بحث ہوگی۔

XS
SM
MD
LG