رسائی کے لنکس

منشیات بیچنے والوں کو سزائے موت دینی چاہیے: ڈونلڈ ٹرمپ


صدر ٹرمپ منشیات سے متعلق اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر منشیات کے اسمگلروں اور بیچنے والوں کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے گئے تو باقی ساری کوششیں وقت ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پر زور دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ منشیات بیچنے والوں کو موت سمیت سخت سزائیں دینی چاہئیں۔

پیر کو ریاست نیو ہیمپشر کے شہر مانچسٹر میں ایک تقریب سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے امریکیوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر قابو پانے کے لیے اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان کیا۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے "منشیات سے پاک نسل" پروان چڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کو متحد ہو کر منشیات کی لعنت کو اپنے ملک سے ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر منشیات کے اسمگلروں اور بیچنے والوں کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے گئے تو باقی ساری کوششیں وقت ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان سخت اقدامات میں منشیات بیچنے والوں کو موت کی سزائیں دینا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ موجودہ قانون کے تحت منشیات بیچنے والوں کو مختصر سی قید کی سزا ہوتی ہے حالاں کہ وہ ایسی چیز فروخت کر تے ہیں جو ہزاروں لوگوں کی جان لے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کی لعنت ختم کرنا ایک طویل اور انتہائی مشکل کام ہے جس میں اس وقت تک کامیابی نہیں ہوگی جب تک امریکہ اس مکروہ کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت رویہ نہیں اپنائے گا۔

صدر ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار منشیات بیچنے والوں کو سخت سزائیں دینے کی تجویز دے چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ان کی یہ تجویز باقاعدہ کسی سرکاری پالیسی کا حصہ بنی ہے۔

ٹرمپ کا صدر بننے کے بعد نیو ہیمپشر کا یہ پہلا دورہ ہے جس کا شمار منشیات سے بری طرح متاثر امریکی ریاستوں میں ہوتا ہے۔ نیو ہیمشر دافع درد ادویات کے زیادہ استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں میں امریکہ میں تیسرے نمبر پر ہے۔

امریکہ میں حالیہ برسوں میں دافع درد اور نشہ آور اجزا پر مشتمل غیر قانونی دواؤں کو بطور منشیات استعمال کرنے کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان ادویات میں موجود سکون بخش اجزا کے باعث ان کی عادی ہوگئی ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ہر روز 116 امریکی ان ادویات کے مقدار سے زیادہ استعمال کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور صرف 2016ء میں 64 ہزار امریکی ان ادویات اور دیگر منشیات کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی داخلی پالیسی کونسل کے سربراہ اینڈریو بریم برگ نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت منشیات کے دھندے میں ملوث ملزمان کو جہاں مناسب ہوا وہاں موجودہ قانون کے تحت ہی موت کی سزائیں دلانے کی پوری کوشش کرے گی۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ موجودہ قانون میں تبدیلی کے بغیر کس طرح استغاثہ کے وکلا عدالتوں سے منشیات کی فروخت میں ملوث ملزمان کو موت کی سزائیں دلانے میں کامیاب ہوں گے۔

بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاملے کا فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا ہوگا کہ کیا موجودہ قوانین میں اتنی گنجائش ہے کہ ان کے تحت ملزمان کو موت کی سزا دی جاسکے۔

پیر کو اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے منشیات کے خلاف اپنی حکومت کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں امریکیوں کو ان دواؤں کا عادی ہونے سے بچایا جائے گا تاکہ ان کی طلب میں کمی لائی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایسی دافع درد دوائیں تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جن کے لوگ عادی نہ بنیں جب کہ ایسی دواؤں کے عادی ہونے کے نقصانات کے متعلق آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مرحلے میں ڈاکٹروں کو بھی آمادہ کیا جائے گا کہ وہ مریضوں کو کم سے کم دافع درد ادویات تجویز کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے نتیجے میں امریکہ میں آئندہ تین برسوں میں دافع درد دواؤں کی کھپت میں ایک تہائی کمی لائی جاسکے گی۔

دوسرے مرحلے میں ٹرمپ حکومت ایسی غیر قانونی نشہ آور دواؤں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے اور ان شہروں میں چھاپہ مار کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جہاں سے یہ دوائیں باقی ملک کو سپلائی کی جاتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG