رسائی کے لنکس

ٹرمپ کے بیٹے اور داماد نے روسی وکیل سے ملاقات کی تھی: رپورٹ


ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر۔ فائل فوٹو

امریکہ کے ایک موقر اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے صاحبزادے، داماد اور انتخابی مہم کے چیئرمین ریپبلکن کی طرف سے ٹرمپ کی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی کے کچھ دیر بعد ایک روسی وکیل سے ملے تھے جو کہ بظاہر صدر کے کلیدی ساتھیوں کی ایک روسی سے ساتھ اولین ملاقات معلوم ہوتی ہے۔

نیویارک ٹائمز میں ہفتہ کو آنے والی اس خبر کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور جیراڈ کشنر کے نمائندوں نے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے تصدیق کی کہ ان افراد کی ملاقات جون 2016ء میں ٹرمپ ٹاور میں ایک روسی وکیل نتالیا ویسلنتسکایا سے ہوئی تھی۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس وقت انتخابی مہم کے چیئرمین پال مینافورٹ بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔

انھوں نے اس ملاقات کو ایک "مختصر تعارفی ملاقات" قرار دیا جس میں ان کے بقول ان تینوں نے اس تحلیل شدہ پروگرام کے بارے میں گفتگو کی جو کسی وقت امریکی شہریوں کو روسی بچے گود لینے کی اجازت دیا کرتا تھا۔

روس نے یہ پروگرام امریکی کی طرف سے اس پر عائد کی گئی تعزیرات کے جواب میں بند کر دیا تھا جو واشنگٹن نے 2009ء میں بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنے والے ایک مقید کارکن کی موت پر عائد کی تھیں۔

ٹرمپ جونیئر کا کہنا تھا کہ "یہ نہ تو انتخابی مہم سے متعلق ملاقات تھی اور نہ ہی اس پہلے سے ہوئی کسی ملاقات کی کڑی۔"

کشنر کی وکیل جیمی گورلک کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پہلے ہی اس ملاقات کے بارے میں ان دستاویزات میں بتا چکے ہیں جس میں آپ کو غیر ملکیوں سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل دینا ہوتی ہے۔

کشنر کے برعکس ٹرمپ جونیئر کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ایسی ملاقاتوں کی تفصیل فراہم کریں کیونکہ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے۔

اخبار کی خبر ان نامعلوم افراد سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر دی گئی جو اس معاملے سے واقف تھے۔

مینافورٹ ٹرمپ کی انتخابی مہم سے تقریباً پانچ ماہ بعد ہی اس وقت علیحدہ ہو گئے تھے جب ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک خبر دی تھی کہ ان کی فرم خفیہ طور پر یوکرین کی حکمران جماعت کے لیے واشنگٹن میں لابنگ کر رہی ہے۔

مینافورٹ نے روسیوں کے ساتھ کسی بھی طرح کے تعلق کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین کے ساتھ ان کا کام کسی طور بھی انتخابی مہم سے وابستہ نہیں تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG