رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیائی خطے کے لیے صدر ٹرمپ نے اپنی نئی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور افغانستان میں امن اور استحکام لانا ہے، لیکن اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ابھی تک کوئی امریکی عہدے دار موجود ہے۔ امریکی تجزیہ کار اس بارے میں کیا کہتے ہیں ، آئیے دیکھتے ہیں۔

نجم ہیرلڈ گل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی ترجيحات میں جنوبی ایشیا سر فہرست ہے۔ لیکن ابھی تک نہ تو نئے امریکی سفیر نے افغانستان میں اپنے کام کا آغاز کیا ہے اور نہ ہی مستقل معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا کا تقرر ہوا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصي ایلچی کا دفتر بھی ختم کر دیا گیا ہے، اور صرف عارضی طور پر ایلس ویلز خصوصي ایلچی اور معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا کے عہدے پر کام کر رہی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی برائے جنوبی ایشیا کی قیادت کون کر رہا ہے۔

تقریبا ایک ماہ پہلے سینٹ نے افغانستان کے لئے نئے امریکی سفیر جان بیس کی منظوری دی تھی۔ لیکن انہوں نے ابھی تک اپنے فرائض نہیں سنبھالے۔ سفیر جان بیس ترکی میں امریکی سفیر تعینات تھے۔

وہ کب اپنے فرائض سنبھالیں گے، اس پر دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس سفیر جان بیس کے شیڈول سے متعلق بتانے کو کچھ نہیں ہے۔ دفتر خارجہ کے پریس افسر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ کب اپنے فرائض سنبھالیں گے۔

اسی سوال کے جواب میں، افغانستان اور پاکستان کے لئے سابق خصوصي ایلچی ڈََین فیلڈ مین کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر جب بھی سینٹ نئے سفیر کی تعیناتی کی منظوری دیتی ہے، تو اس کے بعد، وہ اپنی ذمہ داریاں اپنے نائب کو سونپتے ہیں اور پھر کچھ دن چھٹی پر چلے جاتے ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار تے ہیں۔ پھر وہ دفتر خارجہ اور دیگر محکموں سے بریفنگ اور مشاورت کرتے ہیں اور اس کے بعد وہ اپنے فرائض سنبھالتے ہیں۔ بالعموم اس عمل میں چند ہفتے لگ جاتے ہیں۔

جب یہ پوچھا گیا کہ حالیہ دنوں میں ترکی کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں کچھ کشیدگی پیدا ہوئی تھی، تو کیا یہ بات تو تاخیر کا باعث نہیں بنی۔ تو اس کے جواب میں فیلڈ مین کا کہنا تھا کہ گذشتہ ماہ، کچھ عرصے کے لئے امریکہ اور ترکی کے درمیان حساس وقت تھا، اور یہ ہماری پالیسی مفادات میں نہیں ہے کہ ایسے معاملات کو دیکھنے کے لئے وہاں ایک سینیر سفارت کار موجود نہ ہو، سو ممکن ہے کہ یہی وجہ ہو۔

سابق معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا، کارل اِنڈر فرتھ کا اس بارے میں کہنا تھا کہ گذشتہ ہی ہفتے ہم نے أفغانستان میں طالبان کے بد ترین حملے دیکھے جن میں دو سو سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ یہ اس سال کا مہلک ترین ہفتے تھا۔ اُس ملک کو انتظامیہ کی توجہ کی ضرورت ہے، اور ایک سفیر کا بھی اپنے منصب پر ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اُنہیں جتنی جلد ممکن ہو سکے وہاں جانا چاہیے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یک نئی پالیسی کا اعلان ہو چکا ہے جسے ساؤتھ ایشیا سٹریٹیجی کا نام دیا گیا ہے، اور ہمیں افغانستان میں ایک نئے سفیر کی ضرورت ہے تا کہ وہ اس پالیسی کو مربوط بنانے میں مدد کر سکے۔

اس بارے میں ایک قدامت پسند تھنک ٹینک، ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ماہر، جیمس کیرا فارنو کا کہنا تھا کہ یہ بات اتنی اہم نہیں ہے کہ وہاں کوئی سفیر موجود ہے یا نہیں، کیونکہ وہاں کے أمور اور معاملات نائب سفیر بخوبي سنبھال رہے ہیں، اور نئی انتظامیہ کی ایک مربوط پالیسی کا اعلان ہو چکا ہے، جس کے نفاذ میں کوئی کمی نہیں ہے۔ اس وقت اہم بات یہ ہے کہ افغان افواج کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھاوا دیا جائے، تا کہ وہ میدان نہ چھوڑیں اور اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ جب افغان فورسز میدان میں اپنا وجود قائم رکھ سکیں گی اور طالبان کو شکست دیں گی تو پھر وہاں کی صورت حال اس لحاظ سے موافق ہو گی کہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے۔

کیرا فارنو کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں جب طالبان بھاگ رہے ہوں گے، تو وہ ایک مختلف صورت حال ہو گی، اور ہم سب مذاكرات کی میز کی جانب جائیں گے تا کہ طالبان کو غیر مسلح کر کے انہیں معاشرے میں دوبارہ ضم کیا جا سکے، تو پھر کسی سفیر کی موجودگی شاید اہمیت کی حامل ہو گی۔ لیکن اس وقت میرے خیال میں، اس سے خطے میں، امریکی پالیسی کے نفاذ کی رفتار کم نہیں ہو رہی۔

اسی سوال پر دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز، جنوبی ایشیا کے لئے نئی امریکی حکمت عملی کے نفاذ کی قیادت کر رہی ہیں۔

قیادت کے سوال کے جواب میں سابق خصوصي ایلچی ڈین فیلڈ مین نے کہا کہ اس وقت سویلین جانب سے اس پالیسی کی قیادت سفیر ایلس ویلز اور وہائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کی سینیر رکن لیزا کرٹس کر رہی ہیں۔ دوسری جانب فوج کی جانب سے اس کی قیادت اس خطے کیے لئے معاون وزیر خارجہ برائے دفاع کر ہے ہیں۔

سابق معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا، کارل اِنڈر فرتھ کا جواب یہ تھا کہ میرے خیال میں اس وقت اُس پالیسی کے سب سے ممکنہ لیڈر وہائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر جنرل مک ماسٹر ہیں۔ انہوں نے أفغانستان میں خدمات انجام دی ہیں اور وہ اس ملک کا علم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس لیزا کرٹس کی شخصیت میں ایک اچھا معاون موجود ہے، جو کہ واشنگٹن میں ایک قدامت پرست تھنک ٹینک ہیریٹج فاؤنڈیشن کی مشیر برائے خارجہ پالیسی رہی ہیں۔

جب ہیریٹج فاؤنڈیشن کے جیمس کیرافارنو سے پوچھا گیا کہ کیا لیزا اس پالیسی کے نفاذ کی قیادت کر رہی ہیں، تو جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے۔ لیزا کی حیثیت ایک مشیر کی ہے۔ اس پالیسی کی قیادت دفترِ خارجہ اور محکمہ دفاع کر رہا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ میرے نزدیک اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جنوبی ایشیا کی تمام پالیسی پر سب سے موزوں اور معقول شخصیت ہیں، خاص کر أفغانستان کو درپیش چیلنجوں اور پاکستان اور بھارت کے حوالے سے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس پالیسی کی تشکیل میں ان کا کردار بہت موثر رہا ہو گا۔

تاہم واشنگٹن میں بہت سے ماہرین اس بات کے حق میں ہیں کہ أفغان سفیر کی فوری تعیناتی اور جنوبی ایشیا کے لئے ایک مستقل معاون وزیر خارجہ کا تقرر ہی، نئی أفغان پالیسی پر موثر عمل درآمد میں ممد ومعاون ثابت ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG