رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کا وزیر دفاع جم میٹس کو ہٹانے کا اشارہ


فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وزیر دفاع جم میٹس کو بھی اُن کے عہدے سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے آج اتوار کے روز امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس کے پروگرام 60 Minutes میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اس بات کی کوئی خبر نہیں کہ جم میٹس عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔ تاہم اُنہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ عہدہ چھوڑنے والے ہوں۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر آپ سچ جاننا چاہتے ہیں تو اُن کے خیال میں جم میٹس بڑی حد تک ڈیموکریٹک پارٹی کی ذہنیت رکھتے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ میرین کور کے ریٹائرڈ جنرل جم میٹس اچھے انسان ہیں اور اُن کا میٹس کے ساتھ تعلق بہت اچھا رہا ہے۔ تاہم وہ عہدے سے الگ ہو سکتے ہیں کیونکہ ہر کسی کو کسی نہ کسی وقت عہدہ چھوڑنا ہوتا ہے۔ امریکہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے 2 سالہ اقتدار کے دوران اب تک درجنوں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو فارغ کر چکے ہیں جبکہ کچھ اہلکاروں نے خود سے عہدہ چھوڑ دیا۔ ان میں حالیہ ترین واقعہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی کا ہے جنہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اس سال کے اختتام سے قبل اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہی ہیں۔

وزیر دفاع جم میٹس کے بعض اوقات صدر ٹرمپ اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سمیت اُن کے چند سخت گیر اہلکاروں سے اختلافات کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اب بھی اُن کی انتظامیہ میں بعض ایسے عہدیدار موجود ہیں جن کے بارے میں وہ پرجوش نہیں ہیں۔ اُنہوں نے اکثر اٹارنی جنرل جیف سیشنز پر تنقید کی مگر اُنہوں نے اب تک اُنہیں عہدے سے نہیں ہٹایا ہے۔ جیف سیشنز 2016 کے صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں اور وہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکہ کے صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی۔

تاہم صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں موجود کسی اختلاف کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے اُنہیں ’جعلی خبریں ‘ قرر دیا اور کہا کہ اپنی انتظامیہ میں رد وبدل کرنے کا اُنہیں پورا اختیار حاصل ہے اور اُن کی فہرست میں مزید ایسے لوگ موجود ہیں جو اُن کی انتظامیہ کا حصہ بن کر بہترین کام کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG