رسائی کے لنکس

logo-print

تارکین وطن اور پناہ گزینوں سے متعلق ٹرمپ نئے احکام جاری کریں گے


امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ سے تارکین وطن بشمول شام، عراق، ایران اور دیگر مسلم ممالک کے شہریوں کے لیے ویزے اور پناہ گزینوں پر عارضی پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کرنے والے ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے "روئٹرز" کے مطابق پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک حکام ان کی جانچ پڑتال کے لیے ایک کڑا نظام وضع نہیں لیتے۔ تاہم یہ پابندی ناروا سلوک کی شکار مذہبی اقلیتوں کے لیے نہیں ہو گی۔

خبر رساں ایجنسیوں نے نام ظاہر کیے بغیر حکام اور مبصرین کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ کے ایک اور حکم نامے میں شام، عراق، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں کے لیے ویزے پر پابندی ہو گی۔

توقع ہے کہ صدر ٹرمپ اس ضمن میں پہلا حکم نامہ بدھ کو محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے موقع پر جاری کریں گے۔

منگل کو دیر گئے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک پیغام میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے پاس ایک بڑا اعلان ہے۔ "قومی سلامتی کے لیے کل ایک بڑا دن ترتیب دیا گیا ہے۔ دیگر کئی چیزوں سمیت ہم دیوار بھی بنائیں گے۔"

ٹرمپ اپنی صدارتی مہم کے دوران یہ کہتے آئے ہیں کہ اقتدار میں آکر وہ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بنائیں گے۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ مسلم ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے لیے امیگریشن پالیسی کو سخت کریں گے۔

پہلے پہل ان کا موقف تھا کہ وہ مسلمان ممالک سے آنے والوں کا امریکہ میں داخلہ عارضی طور پر بند کر دیں گے لیکن بعد ازاں ٹرمپ یہ کہتے رہے کہ ایسے ممالک جہاں دہشت گرد گروپس موجود ہیں، وہاں سے آنے والوں کے لیے "جانچ پڑتال کا انتہائی سخت" نظام وضع کیا جائے گا۔

توقع ہے کہ ٹرمپ محکمہ خارجہ کو بعض مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ویزے جاری نہ کرنے کی ہدایت کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ کسٹم حکام کو بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے ممالک سے آنے والے وہ شہری جنہیں ویزے جاری کیے جا چکے ہیں انھیں ملک میں داخل ہونے سے روکیں۔

منگل کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر کا کہنا تھا کہ محکمہ خارجہ اور ہوم لینڈ سکیورٹی ان ممالک سے امریکہ آنے کے متمنی افراد کی جانچ پڑتال کی نگرانی کریں گے۔

XS
SM
MD
LG