رسائی کے لنکس

نیویارک کے مین ہیٹن میں واقع ٹرمپ ٹاور کی چھت پر آج علی الصبح آگ بھڑک اُٹھی جس سے تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ اُس وقت واشنگٹن ڈی سی میں تھے۔ گزشتہ برس صدر بننے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش اسی ٹرمپ ٹاور میں تھی۔

آگ بجھانے والے عملے کا ایک اہلکار زخمی ہونے کے باعث ہسپتال میں داخل ہے۔ تاہم اُس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ فائر ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ دیگر دو افراد کو فوری طبی امداد دے کر گھر بھیج دیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک عمارت میں کام کرتا ہے۔ شروع میں بتایا گیا تھا کہ اُس کی حالت نازک ہے۔ تاہم اب فائر ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اُس کے زخم معمولی ہیں۔

​صدر کے ایک بیٹے ایرک ٹرمپ نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ آگ ٹاور کی چھت پر کولنگ کے نظام میں بجلی کی تاروں میں خرابی کی وجہ سے لگی۔ ایرک کا کہنا تھا کہ نیو یارک فائر ڈپارٹمنٹ کا عملہ چند منٹ کے اندر وہاں پہنچ گیا اور اُنہوں نے بہترین کام کیا۔ نیو یارک فائر ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے مرد اور خواتین صحیح معنوں میں ہیرو ہیں اور وہ ہمارے شکریے اور تعریف کے حقدار ہیں۔

فائر ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ آگ عمارت کے اندر نہیں بلکی چھت پر لگی تھی۔ سٹی فائر مارشل آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کیلئے تحقیقات کر رہے ہیں۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جم لونگ نے بتایا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس بارے میں تفصیلات جاری کر دی جائیں گی۔

جس وقت آگ بجھانے والا عملہ آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا تو اس 68 منزلہ عمارت کی چھت سے دھوئیں کے بادل بلند ہونا شروع ہو گئے۔

اس آگ پر قابو پانے کیلئے 84 فائر فائٹر اور طبی عملے کے ارکان کے علاوہ ایمرجنسی سے نمٹنے والے 26 ہنگامی یونٹ فوراً موقع پر پہنچ گئے اور ایک گھنٹہ 15 منٹ کے بعد عمارت کو محفوظ قرار دے دیا گیا۔

صدر ٹرمپ کا پینٹ ہاؤس عمارت کی 66 ویں منزل پر ہے۔ اس عمارت میں ٹرمپ کی کمپنی کے دفاتر کے علاوہ دیگر رہائشی یونٹ، دفتر اور اسٹور موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG