رسائی کے لنکس

سفری پابندیوں کے مقدمے کا مستقبل


سان فرانسسکو میں امریکی سرکٹ کورٹ کی عمارت جہاں سفری پابندیوں سے متعلق صدر ٹرمپ کے حکم کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے۔ 6 فروری 2017

سات مسلم اکثریتی ملکوں کے افراد پر امریکہ میں داخلے پر پابندی سے متعلق صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع حکم نامے کے مستقبل کا دار و مدار ب ایک وفاقی اپیلز کورٹ پر ہے ۔

سان فرانسسکو کی نویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے ایک ٹیلی فون کانفرنس کال کے دوران جو انٹر نیٹ اور کیبل ٹی وی نیوز پر براہ رأست نشر ہوئی، دونوں جانب کے وکلا کے دلائل سنے۔

ججوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دلائل پیش کرنے والے جسٹس ڈپارٹمنٹ کے اٹارنی اوگسٹ فلیٹجے کی طرف سے اختیار کیے جانے والے موقف کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

وفاقی جج ولیم کین بی نے کہا کہ ان ملکوں سے ویزے کے ساتھ آنے والے لوگوں نے کتنی وفاقی خلاف ورزیاں کی ہیں ۔ اس کا حتمی جواب تھا کوئی ایک بھی نہیں کی گئی ۔

وفاقی وکیل کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں خاصی تیزی سے ہوتی رہی ہیں اور ہم اس حوالے سے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

وفاقی جج مائیکل فریڈلینڈ نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ کارروائیاں تیز رفتاری سے ہو رہی ہیں، لیکن آپ نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں ریکارڈ کی تیاری جاری رکھنے سے پہلے ہمارے سامنے اپیل پیش کر دی ہے، تواگر ایسا لگتا ہے کہ آپ یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ دوسرے شواہد بعد میں پیش کریں گے تو ہم اس کی سماعت ابھی کیوں کریں ۔

اٹارنی فلنٹجے نے کہا کہ الشباب سے منسلک صومالیہ کے بہت سے لوگ ہیں جنہیں امریکہ میں مجرم ٹھہرایا گیا ہے ۔

اس پر جج مائیکل فریڈ لینڈ نے پوچھا کہ کیا یہ چیز ریکارڈ میں موجود ہے؟ کیا آپ ہمیں اس ریکارڈ کے بارے میں بتا سکتے ہیں جس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں۔

تو اس کے جواب میں وفاق کے وکیل نے کہا کہ یہ ریکارڈ میں نہیں ہے ۔ دوسری مثالیں بھی ہیں لیکن آپ کا کہنا ٹھیک ہے کہ یہ ریکارڈ میں نہیں ہے ۔

ججوں نے ریاست واشنگٹن کے اٹارنی نوآ پرسل کے دلائل کو بھی چیلنج کیا ۔ واشنگٹن اور منی سوٹا کی ریاستوں نے سفر پر پابندی کے خلاف مقدمات دائرے کیے تھے۔ اٹارنی پرسل کا موقف تھا کہ پابندی غیر آئینی ہے کیونکہ یہ خصوصي طور پر مسلمانوں کو ہدف بناتی ہے ۔

تین رکنی عدالتی پینل نے کہا کہ وہ جس قدر جلد ممکن ہوا فیصلہ جاری کرے گا۔

جب سے زیریں عدالت نے گذشتہ جمعے کو سفر پر پابندی کو معطل کیا ہے تارکین وطن تیزی سے امریکہ آ رہے ہیں۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر پابندی بحال ہو گئی تو اس سے ملک کے بہت سے ہوائی اڈوں پر لوگوں میں ابہام اور افرا تفری پیدا ہو سکتی ہے جیسا کہ اس وقت ہوئی تھی جب 27 جنوری کو یہ پابندی پہلی بار لاگو ہوئی تھی۔

ہزاروں افراد کو کسٹم کے عہدے داروں نے ہوائی اڈوں پر روک لیا تھا اور ان میں سے کچھ کو ان کے ملکوں میں واپس بھیج دیا گیا تھا۔

اس اقدام کے نتیجے میں ملک گیر سطح پر مظاہرے ہوئے اور بہت سے محاذوں پر قانونی اقدامات کئے گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی اپیلز کورٹ جو بھی فیصلہ کرے، امکان یہ ہے کہ یہ مقدمہ آخر کار امریکی سپریم کورٹ میں جائے گا۔

سپریم کورٹ گذشتہ سال جسٹس اینتونین سیلیا کے انتقال کے بعد سے آزاد خیال موقف کی طرف جھکاؤ رکھنے والے چار ججوں اور قدامت پسند موقف کی طرف جھکاؤ رکھنے والے چار ججوں پر مشتمل رہی ہے ۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG