رسائی کے لنکس

logo-print

سفری پابندیوں کی بحالی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی سپریم کورٹ میں درخواست


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں اور دنیا کے کسی بھی حصہ سے آنے والے تارکین وطن پر سفری پابندی کے انتظامی حکم کو بحال کرنے کی درخواست کی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایسی پالیسی کے نفاذ سے امریکہ محفوظ ہو گا۔

محکمہ انصاف کی طرف سے جمعرات کو دائر کی جانے والی اپیل میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ذیلی عدالتوں، جنہوں نے ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا تھا، انہوں نے کئی غلطیاں کیں ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر انحصار کرنا بھی شامل ہیں جو ٹرمپ نے 2016 کی انتخابی مہم کے دوران دیئے تھے۔

محکمہ انصاف کی ترجمان سارہ اسگر فلورس نے کہا کہ محکمہ انصاف "پراعتماد ہے کہ صدر کا انتظامی حکم نامہ ان اختیارات میں آتا ہے" جن کا مقصد لوگوں کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "صدر کے لیے ضروری نہیں کہ ان ملکوں سےلوگوں کو یہاں (امریکہ) آنے دیں جو دہشت گردی کی معاونت کرتے ہیں یا (دہشت گردوں کو ) پناہ دیتے ہیں۔۔۔ اس وقت تک جب تک وہ اس بات کو تعین نا کر لیں کہ ان کی مناسب طریقہ سے چھان بین کی گئی اور وہ امریکہ کے لیے کسی قسم کے خطرے کا باعث نہیں ہیں۔"

انسانی حقوق کے گروپ جو عدالتوں میں اس پالیسی کی مخالفت کررہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ججوں کو سفری اور تارکین وطن پر پابندی کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔

نیشنل امیگریشن لا سینیٹر کے لیگل ڈائریکٹر کیرن ٹملن نے کہا کہ "بار بار ہمارے ملک کی عدالتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ (ایسی) پابندی غیر آئینی ہے۔"

سفری اور تارکین وطن سے متعلق پابندیوں کو بحال کرنے کے لیے کم ازکم پانچ ججوں کی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG