رسائی کے لنکس

logo-print

یمن جنگ کے خلاف کانگریس کا بِل صدر ٹرمپ نے ویٹو کردیا


یمن کے دارالحکومت صنعا میں واقع بمباری کا نشانہ بننے والی ایک عمارت (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کی جنگ میں امریکہ کی شرکت کے خلاف کانگریس کا منظور کردہ مسودۂ قانون ویٹو کردیا ہے۔

ایوانِ نمائندگان نے رواں ماہ وائٹ ہاؤس کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے یمن میں جاری جنگ میں امریکہ کی جانب سے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کی معاونت ختم کرنے کا بِل منظور کیا تھا۔

ایوانِ نمائندگان سے قبل سینیٹ نے بھی اسی نوعیت کا ایک بِل کثرتِ رائے سے منظور کیا تھا۔ مذکورہ بِل 1973 کے 'وار پاور ایکٹ' کے تحت منظور کیا گیا تھا جس کے تحت امریکی صدر بیرونِ ملک کسی تنازع میں امریکی فوج کو استعمال کرنے کے لیے کانگریس کی اجازت کے پابند ہیں۔

امریکہ کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس نے اس قانون کا استعمال کیا ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس پہلے ہی واضح کرچکا تھا کہ صدر ٹرمپ اس قانون کو ویٹو کردیں گے کیوں کہ اس سے امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔

صدر نے وائٹ ہاؤس کے انتباہ کے عین مطابق بدھ کو مجوزہ قانون ویٹو کردیا۔ کانگریس کے پاس صدر کے ویٹو کو ختم کرنے کا اختیار موجود ہے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کے حامیوں کے پاس ویٹو غیر موثر کرنے کے لیے درکار اکثریت نہیں ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بدھ کو وائٹ ہاؤس سے جاری حکم نامے میں صدر نے ویٹو کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کانگریس کی قرارداد غیر ضروری اور صدر کے آئینی اختیارات کو کمزور کرنے کی خطرناک کوشش ہے۔

صدر نے مزید لکھا ہے کہ کانگریس کے اس بِل کے نتیجے میں امریکی شہریوں اور بہادر فوجیوں کی زندگیاں موجودہ حالات میں اور مستقبل میں بھی خطرے سے دوچار ہوں گی۔

ڈیموکریٹس اور یمن جنگ کے مخالف ری پبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں امریکہ کے تیار کردہ میزائل اور اسلحہ استعمال کر رہے ہیں جو ان کے بقول عام شہریوں کی جانیں لینے کا سبب بن رہا ہے۔

یمن میں سعودی اتحاد کی بمباری میں بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت اور اسپتالوں، اسکولوں اور شہری املاک کو پہنچنے والے نقصانات پر عالمی برادری سخت برہمی کا اظہار کرتی آئی ہے۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری لڑائی امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔ (فائل فوٹو)
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری لڑائی امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔ (فائل فوٹو)

لیکن ری پبلکن رہنماؤں کا موقف ہے کہ یمن کی جنگ پر 'وار پاور ایکٹ' کا اطلاق نہیں ہوتا کیوں کہ وہاں امریکی فوج براہِ راست سرگرم نہیں بلکہ اس کا کردار سعودی عرب اور اس کے ا تحادی ملکوں کو انٹیلی جینس اور اسی نوعیت کا تعاون فراہم کرنے تک محدود ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یمن میں سرگرم ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی معاونت امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔

صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب انہوں نے کانگریس کے منظور کردہ کسی بِل کو ویٹو کیا ہے۔

اس سے قبل صدر نے گزشتہ ماہ ملک میں نافذ ہنگامی حالت کے خلاف کانگریس کا منظور کردہ ایک بِل ویٹو کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG