رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ امریکہ کی جوہری استعداد میں اضافے کے متمنی


صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ امریکہ کی جوہری استعداد میں اضافے کے متمنی ہیں۔

اس بارے میں پہلی بار بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے جوہری ہتھیاروں کی استعداد میں پیچھے رہ گیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بات خبر رساں ادارے روئیڑز سے ایک انٹرویو میں کہی۔

20 جنوری کو منصب صدارت سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے اس بارے میں ٹویٹ میں کہا تھا کہ امریکہ کو اس وقت تک اپنی جوہری استعداد کو وسعت دینی چاہیئے "جب تک دنیا جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی معقول موقف اختیار نہیں کرتی ہے۔"

ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ وہ ایسی دنیا کے متمنی ہیں جہاں جوہری ہتھیار نا ہوں تاہم انہوں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا کہ امریکہ "جوہری ہتھیاروں کی استعداد میں پیچھے رہ گیا ہے۔"

"میں پہلا (صدر) ہوں گا جو یہ چاہیے گا کہ ۔۔۔ کسی کے پاس بھی جوہری ہتھیار نا ہوں تاہم ہم کسی بھی ملک سے پیچھے نہیں رہیں گے چاہے کوئی دوست ملک ہی کیوں نا ہو۔ ہم اپنی جوہری طاقت کو کم نہیں ہونے دیں گے۔"

ٹرمپ نے کہا کہ "یہ بہت ہی اچھا ہو گا، خواب ہو گا کہ کسی بھی ملک کے پاس جوہری ہتھیار نا ہوں لیکن اگر (دوسرے) ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہوں گے تو پھر ہم ان سے آگے رہنا چاہیں گے۔"

جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے سرگرم تنظیم پلو شئیرز فنڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس 6800 جوہری ہتھیار ہیں جب کہ روسی جوہری ہتھیاروں کی تعداد سات ہزار ہے۔

روس کی طرف سے کروز میزائل کی تنصیب کی مذمت کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ روس نے ایسا کر کے 1987ء میں امریکہ اور روس کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میرے لیے یہ ایک بڑی بات ہے۔" انہوں نے کہا اگر "ہماری کوئی ملاقات ہوتی ہے" تو یہ معاملہ ان کے ساتھ اٹھائیں گے۔

اول آفس میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کے تجربات پر بہت ناراض ہیں اور انہوں نے کہا کہ جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے میزائل دفاعی نظام ( فراہم کرنے میں) تیزی ممکنہ راستوں میں سے ایک ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ چین شمالی کوریا کی طرف سے درپیش سکیورٹی کے چیلنجوں کے خاتمے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری طرف چین کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خلاف ہے اور وہ تواتر کے ساتھ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے اور پیانگ یانگ اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کی بات کر چکا ہے۔

شمالی کوریا پر عائد تعزیرات کے ذریعے اس کے رویہ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں ہیں، اس کی بڑی وجہ چین کا یہ خدشہ ہے کہ انتہائی اقدامات سے شمالی کوریا ٹوٹ سکتا ہے جس کی وجہ سے مہاجرین کا سیلاب چین میں داخل ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG