رسائی کے لنکس

logo-print

حکومتی شٹ ڈاؤن کافی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے: ٹرمپ کا انتباہ


اجلاس میں شرکت کے لیے نائب صدر مائیک پینس کی وائٹ ہائوس آمد

امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے پہلے روز صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ کے معاملے پر تعطل کو ختم کرنے کے لیے اُنھوں نےڈیموکریٹس کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم، اُنھوں نے متنبہ کیا کہ ''شٹ ڈاؤن کافی عرصے تک جاری رہ سکتا ہے''، جس معاملے پر اُنھوں نے سرحدی سکیورٹی بہتر بنانے کے اپنے مطالبے یا اعادہ کیا۔

ٹرمپ نے پانچ ارب ڈالر مختص کرنےکا مطالبہ کر رکھا ہے، تاکہ امریکہ میکسیکو سرحد کے ساتھ ساتھ باڑ کی تعمیر کے لیے رقوم میسر آ سکیں، جس بات کی کانگریس میں موجود ڈیموکریٹس مخالفت کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ''بے حد ضروری سرحدی سکیورٹی کی غرض سے ہم ڈیموکریٹس کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں (تاکہ ٹولوں، منشیات، انسانی اسمگلنگ وغیرہ) کو روکا جا سکے۔ لیکن (لگتا ہے) یہ معاملہ کافی عرصے تک رہے گا''۔

ہفتے کے روز امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے اجلاس جاری ہیں، تاکہ کانگریس کے قائدین تعطل ختم کرنے کے لیے اخراجاتی بل کے معاملے پر کسی تصفیے پر پہنچ سکیں۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز کئی قانون سازوں کو وائٹ ہائوس مدعو کیا، جن سبھی کا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے تھا، تاکہ صورت حال کو زیر غور لایا جاسکے، جن میں امیگریشن کے معاملے پر سخت گیر موقف رکھنے والے ارکان بھی شامل ہیں، جیسا کہ ایوان کے 'فریڈم کائوکس' کے ایوان نمائندگان کے رکن، مارک میڈوز۔

کائوکس نے ٹرمپ پر دبائو برقرار کھا ہے کہ وہ سرحدی دیوار کے اپنے اصل مطالبے پر پختہ کھڑے رہیں۔

سینیٹ کے ایوان سے مخاطب ہوتے ہوئے، سینیٹ میں اکثریتی قائد، مِچ مکونیل نے کہا ہے کہ جب تک ڈیموکریٹس اور وائٹ ہائوس کے درمیان کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا، وہ رائے شماری نہیں کرائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG