رسائی کے لنکس

logo-print

جی 20 سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکہ چین تجارتی تنازع طے پانے کا امکان


ایک جیٹ طیارہ جی 20 کا بینر لہراتے ہوئے ارجنٹائن کے اس مقام پر سے پرواز کر رہا ہے جہاں 20 عالمی معیشتوں کے سربراہوں کا اجلاس منعقد ہو گا۔ 28 نومبر 2018

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی راہنما زی جن پنگ اس ہفتے بیونس آئرس میں گروپ 20 کے سر براہی اجلاس کے موقع پر تجارتی معاملات پر گفتگو کے لیے الگ سے ملاقات کریں گے۔

امریکی نیشنل اکنامک کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ امکان بہت حد تک موجود ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ لیکن کونسل نے انتباہ کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ ہو سکا تو ٹرمپ انتظامیہ مزید محصولات عائد کرنے پر غور کر ے گی۔

عالمی راہنما اس ہفتے بیونس آئرس، ارجنٹائن میں دنیا کی 20 ممتاز ترین اقتصادی معیشتوں کے سالانہ اجتماع میں شرکت کی تیاریاں کر رہے ہیں جس میں دو راہنما بطور خاص توجہ کا مرکز ہوں گے جن میں ایک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے چینی راہنما زی جن پنگ ہیں۔

ایک ایسے وقت میں، جب کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ جاری ہے، ان کے راہنما، گروپ 20 کے سر براہی اجلاس کے موقع پر الگ سے ملاقات کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لیری کڈلو کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کچھ شرائط کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انٹلکچو ئل پراپرٹی، یعنی املاک دانش کے مسائل کو حل ہونا چاہیے، ٹیکنالوجی کی زبردستی منتقلی کا مسئلہ حل ہونا چاہیے، اہم محصولات اور غیر محصولاتی رکاوٹوں کا مسئلہ حل ہونا چاہیے، ملکیت کے مسائل کو حل ہونا چاہیے۔

اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو وائٹ ہاؤس چین سے 200 ارب ڈالر کی درآمدات پر اور 267 ارب ڈالر کی لاگت کی دوسری درآمدی اشیا پر محصولات میں اضافے پر غور کرے گا۔

چین کے لیے سابق امریکی سفیر ونسٹن لارڈ کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ اقتصادی عدم مساوات کو درست کرنے کی کوشش میں حق بجانب ہیں، اگرچہ میرا خیال ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے محصولات ایک غلط راستہ ہے، اور بہتر یہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی زبردستی منتقلی، املاک دانش کی چوری، چینی کمپنیوں کی مالی معاونت جیسے مسائل پر زور دینا جاری رکھیں۔

اسی سلسلے میں بیجنگ نے انتباہ کیا ہے کہ کسی بھی تجارتی جنگ کے نتیجے میں عالمی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ چین کے تجارتی امور کے نائب وزیر وانگ شوون کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کہ جب عالمی تجارت اور سرمایہ کاریاں سخت مشکلات سے دوچار ہیں، گروپ 20 کی ذمہ داری ہے کہ وہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو زیر بحث لائے اور اسے چاہیے کہ وہ یک طرفہ نظام اور تجارتی تحفظ کے خلاف ایک واضح سگنل بھیجے۔

تجارتی کشیدگیاں کم ہونے سے دنیا بھر میں مالیاتی منڈی کے خدشات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ سرمایہ کار اس بارے میں سگنلز کے منتظر ہوں گے کہ دونوں فریق تجارتی اختلافات حل کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔

نومبر کے وسط میں ہونے والا ایشیا پیسفک تعاون کا سر براہی اجلاس کوئی مشترکہ بیان سامنے لانے میں ناکام ہو گیا تھا جس کی سب سے بڑی وجہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اختلافات تھے۔

دنیا یہ دیکھنے کی منتظر ہو گی کہ آیا گروپ 20 کا اجلاس کسی اہم پیش رفت کو جنم دے گا یا پھر اس کا نتیجہ ایک اور تعطل کی شکل میں سامنے آئے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG