رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گرد خطرات زیادہ گنجلک ہوتے جا رہے ہیں: مائیک پومپیو


امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ’’پہلے کے مقابلے میں آج کل کے دہشت گرد خطرات زیادہ گنجلک، مختلف النوع اور تیز تر قسم کے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’القاعدہ، داعش جیسے دہشت گرد گروپ اور نیٹ ورک، اور ایران کی پشت پناہی والے دہشت گرد ہمیں، ہمارے اتحادیوں اور ساجھے داروں کو ہدف بنا رہے ہیں‘‘۔

محکمہٴ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اخباری بیان میں پومپیو نے کہا کہ ’’ان خطرات سے نبردآزما ہونے کے لیے، لازم ہے کہ ہم ایک مفصل اور مربوط طریقہٴ کار اپنائیں‘‘۔

اس سے قبل، آج صدر ٹرمپ نے انسداد دہشت گردی کی نئی قومی حکمت عملی کا اعلان کیا، جسے اختیار کرتے ہوئے، پومپیو نے کہا کہ ’’ہم امریکی اختیار کے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے تاکہ اپنے عوام کو تحفظ اور اُن کے مفادات کی نگہبانی کو یقینی بنایا جا سکے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ صدر کی حکمت عملی سفارت کاری کی اہمیت کر اجاگر کرتی ہے اور ہمیں درپیش دہشت گرد خدشات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی ساجھے داری کے کردار کو نمایاں کرتی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ حکمت عملی دہشت گردی سے نبردآزما ہونے کی ذمے داری تمام ملکوں کی جانب سے مساوی اقدام کی ضرورت کا تقاضا کرتی ہے، جس سے ہمارے ساجھے داروں کی انسداد دہشت گردی کی استعداد میں وسعت لانا ضروری ہے اور آج اور کل کے دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے مشترکہ عمل پر زور دیتی ہے۔

پومپیو نے کہا کہ درپیش صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے، دیگر وفاقی اداروں کے قریبی اشتراک سے محکمہ ٴخارجہ اپنے اتحادیوں اور ساجھے داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا، تاکہ پالیسیوں پر عمل درآمد کیا جائے، اور اپنے دہشت گرد دشمنوں اور اُن کے حامی نیٹ ورکس کا قلع قمع کرنے کے لیے دستیاب ضروری وسائل مؤثر طور پر استعمال کیے جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG