رسائی کے لنکس

logo-print

تیونس: مظاہروں اور جھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ


یہ بدامنی گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوئی جب سرکاری نوکری سے ہاتھ دھونے والا ایک نوجوان احتجاج کرتے ہوئے بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا جہاں بجلی کا جھٹکا لگنے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

تیونس میں 2011ء کی اس عوامی تحریک کے بعد جس کے نتیجے میں ملک کے دیرینہ آمر زین العابدین بن علی کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا تھا، گزشتہ چار روز میں بدترین مظاہرین اور جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔

اس صورتحال کے باعث حکام کو ملک بھر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا اور وزارت داخلہ کے مطابق رات آٹھ بجے سے صبح پانچ بجے تک نافذ رہنے والا کرفیو سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کے لیے ضروری تھا۔

جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جب کہ دارالحکومت میں بلوا کرنے والے کم ازکم 16 افراد کو پولیس نے حراست میں بھی لیا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم تین پولیس اسٹیشنوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے اور جھڑپوں میں درجنوں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھار اور اشک آور گیس کا استعمال کیا۔

یہ بدامنی گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوئی جب سرکاری نوکری سے ہاتھ دھونے والا ایک نوجوان احتجاج کرتے ہوئے بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا جہاں بجلی کا جھٹکا لگنے سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

پانچ سال قبل بھی ایک بے روزگار نوجوان کی خودکشی کے بعد وہ تحریک شروع ہوئی تھی جس نے نہ صرف تیونس بلکہ شمالی افریقہ کے دیگر ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اسے "عرب اسپرنگ" کا نام دیا گیا تھا۔

مظاہروں کے باعث تیونس کے وزیراعظم حبیب الصید نے اپنا دورہ یورپ مختصر کر دیا ہے۔

تیونس میں تقریباً ایک تہائی نوجوان بے روزگار ہیں اور ملک میں بے روزگاری کی شرح 15 فیصد کے لگ بھگ ہے۔

XS
SM
MD
LG