رسائی کے لنکس

logo-print

تیونس انتخابات: صدارتی اُمیدوار کا شکست تسلیم کرنے سے انکار


تیونس کے بزرگ سیاستدان الباجی قائد السبسی نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اپنی فتح کا اعلان کیا ہے، تاہم اُن کےحریف عبوری صدر منصف مرزوقی نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

تیونس کے بزرگ سیاستدان الباجی قائد السبسی نے اتوار کو صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اپنی فتح کا اعلان کیا ہے، جسے چار سال قبل سابق صدر زین العابدین بن علی کی ایک تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد مکمل جمہوریت کی طرف آخری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

تاحال انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا اور السبسی کے حریف عبوری صدر منصف مرزوقی نے فی الحال اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

لیکن پولنگ ختم ہونے کے کچھ دیر بعد ہی 88 سالہ السبسی نے اعلان کیا کہ انھیں واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے اور ان کے حامی "صدر الباجی" کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

السبسی سابق صدر زین العابدین کے دور میں پارلیمنٹ کے اسپیکر رہ چکے ہیں۔

ان کی جماعت ندائے تونس اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں مذہبی جماعت کو شکست دے کر پارلیمان میں اکثریت حاصل کر چکی ہے۔

2011ء میں عرب سپرنگ کہلانے والی تحریک خطے کے مختلف ملکوں میں چلی لیکن دیگر ممالک کی نسبت تیونس میں نئے ترقی پسند آئین اور کامیاب انتخابات کے انعقاد سے صورتحال بہتر ہو چکی ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے السبسی کا کہنا تھا کہ "میں اپنی (کامیابی) تیونس کے شہدا کے نام کرتا ہوں۔ میں مرزوقی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اب ہمیں کسی کو بھی منہا کیے بغیر مل کر کام کرنا چاہیے۔"

تاہم ان کے حریف 69 سالہ مرزوقی جو دائیں بازو کے سرگرم کارکن رہے ہیں، نے السبسی کے فتح کے دعوے کو مسترد کیا اور کہا جب سرکاری نتائج کا اعلان ہوگا تو وہ ہی فاتح ہوں گے۔

اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "آج تیونس جیتا، جمہوریت کی فتح ہوئی، ہمیں متحد رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مخالف کے دعوؤں کے باوجود تمام اشارے ہمارے لیے مثبت ہیں۔"

XS
SM
MD
LG