رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کی شام میں فوجی کارروائی کا آغاز


ترکی نے شمال مشرقی شام میں کارروائی کا اعلان کر رکھا تھا۔

ترکی نے شمالی مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ترک فضائیہ نے سرحدی علاقے راس العین میں شامی کردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی راہداری کے خاتمے تک کارروائی جاری رہے گی۔

ترکی کی کارروائی کے خدشے پر شمال مشرقی شام میں کردوں کے زیرِ اثر مقامی انتظامیہ نے سرحد پر جنگجوؤں کی تعیناتی شروع کر دی تھی۔

ترک فوج کے ایک افسر نے رائٹرز کو بتایا کہ فوجی کارروائی کا آغاز فضائی بمباری سے کیا گیا ہے۔ علاقے میں ٹینکوں اور پیدل فوج کے ذریعے بھی کارروائی کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق سرحد سے ملحقہ علاقوں میں جنگی جہاز پرواز کر رہے ہیں اور دھماکے سنے گئے ہیں۔

صدر ایردوان نے کارروائی سے پہلے روس کے صدر ولادی میر پوٹن کو اعتماد میں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے خطے میں امن و استحکام لانے میں مدد ملے گی۔

کرد انتظامیہ نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ ترکی کی مہم جوئی سے علاقے میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

کرد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجو مزاحمت کے لیے سرحد کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گے اور ہر صورت اپنے علاقے کا دفاع کریں گے۔

صدر ایردوان کی ترجمان فہرطین التن نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کارروائی کے لیے انقرہ کا ساتھ دیں۔ اس کارروائی میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' میں چھپنے والے مضمون میں فہرطین التن کا کہنا تھا کہ ترکی شمالی مشرقی شام کے عوام کو کرد جنگجوؤں سے آزادی دلانا چاہتا ہے۔

ترکی کرد جنگجو گروہوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور سرحد سے متصل شام کے علاقے میں 32 کلومیٹر تک ’سیف زون‘ بناکر اپنے ملک میں مقیم 35 لاکھ پناہ گزینوں میں سے 20 لاکھ کو وہاں آباد کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز پہلے شمال مشرقی شام سے اپنی فوج نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد ترکی کے لیے جنگجو گروہوں کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

امریکہ ماضی میں ان جنگجو گروہوں کی حمایت کرتا آیا ہے جو اس کے بقول شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف سرگرم ہیں۔

امریکہ شمال مشرقی شام میں ان کرد جنگجوؤں کی حمایت کرتا رہا ہے۔
امریکہ شمال مشرقی شام میں ان کرد جنگجوؤں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ترکی کو تنبیہ بھی کی تھی کہ اگر اس نے شام میں 32 کلومیٹر کے علاقے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کی معیشت کو تباہ کر دے گا۔

ترک حکام کا کہنا تھا کہ وہ کرد جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG