رسائی کے لنکس

logo-print

روسی سفیر کی ہلاکت کا الزام گولن کے حامیوں پر


مقتول روسی سفیر کی لاش کو پورے اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی وطن بھجوا دیا گیا ہے۔

ترکی نے اپنے اس خیال سے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ انقرہ میں دو روز قبل روسی سفیر کی ہلاکت کے مبینہ طور پر ذمہ دار امریکہ میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے پیروکار ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "انادولو" کے مطابق ترک وزیرخارجہ میولت شیوسوگلو نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ٹیلی فون پر بات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ "ترکی اور روس کو یہ معلوم ہے کہ [گولن کی تنظیم] اس حملے کے پیچھے ہے" جس میں سفیر آندرے کارلوف ہلاک ہو گئے تھے۔

فتح اللہ گولن امریکی ریاست پنسلوینیا میں خودساختہ جلاوطنی گزار رہے ہیں اور ترکی ان کی حوالگی کا مطالبہ رواں سال جولائی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد سے کرتا آرہا ہے۔

صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام بغاوت کا الزام ترکی گولن اور ان کے تنظیموں سے وابستہ افراد پر عائد کرتا ہے لیکن یہ ترک مبلغ ان دعووں کو مسترد کر چکے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا منتظر ہے۔ ترجمان محکمہ خارجہ نے منگل کو کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ تفتیش کاروں کو ان کا کام کرنے دیا جائے اور حقائق اور ثبوت سامنے آئیں قبل اس کے کہ کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے۔"

اطلاعات کے مطابق جان کیری نے بھی ترکی سے اس واقعے کی تحقیقات میں معاونت کی پیشکش کی ہے، تاہم انقرہ کا کہنا ہے کہ وہ روسی حکام کے ساتھ مل کر اس کی تحقیق کرے گا اور ماسکو نے تفتیش کاروں کی 20 رکنی ٹیم بھی ترکی بھیج دی ہے۔

پیر کو انقرہ میں ایک تصویری نمائش کے دوران روسی سفیر کو ترک پولیس کے اہلکار نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ حملہ آور نے اس دوران شام اور حلب کی صورتحال پر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔

مقتول روسی سفیر کی لاش کو پورے اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی وطن بھجوا دیا گیا ہے۔

روسی پرچم میں لپٹے تابوت کو انقرہ کے ہوائی اڈے سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ روانہ کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG