رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: کرد باغیوں کا ایک اور حملہ، دو فوجی ہلاک


گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کرد اکثریتی علاقوں میں 'پی کے کے ' کے باغیوں نے ترک فوج پر اس نوعیت کے کئی حملے کیے ہیں۔

ترکی کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں ترک باغیوں کے حملے میں دو فوجی اہلکار اور ایک نجی محافظ ہلاک ہوگیا ہے۔

حکام نے حملے کا الزام کرد باغی تنظیم 'کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے)' پر عائد کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ باغیوں نے صوبہ سِرنک کے علاقے اراکوئے میں سڑک کے کنارے بم نصب کیا تھا جو اس وقت پھٹا جب وہاں سے ایک فوجی گاڑی گزر رہی تھی۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کرد اکثریتی سِرنک صوبے میں 'پی کے کے ' کے باغیوں نے ترک فوج پر اس نوعیت کے کئی حملے کیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کے حملوں میں صرف 20 جولائی سے اب تک ترک سکیورٹی اداروں کے 18 اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

ترک فوج کی جانب سے شمالی عراق اور سرحد سے متصل ترک علاقوں میں 'پی کے کے' کے ٹھکانوں پر دو ہفتے قبل شروع کی جانے والے فضائی حملوں کے بعد باغیوں کی جانب سے ان حملوں میں تیزی آگئی ہے۔

ان حملوں کے جواب میں ترکی نے باغیوں کے ٹھکانوں پر اپنی فضائی کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔

عراق کے نیم خود مختار کرد علاقے 'عراقی کردستان' کے صدر مسعود برزانی نے ترک حکومت اور باغیوں – دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر حملے روک کر امن عمل کی بحالی کو یقینی بنائیں۔

صدر برزانی نے 'پی کے کے' کے باغیوں پر زور دیا ہے کہ وہ عراقی کردستان سے نکل جائیں جب کہ انہوں نے ترکی کے سرحد پار حملوں پر بھی کڑی تنقید کی ہے۔

لیکن یورپی یونین نے کرد باغیوں کے خلاف ترکی کی فضائی کارروائیوں کی حمایت کرتےہوئے کہا ہے کہ ترک حکومت کو دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع میں کارروائیوں کا حق حاصل ہے۔

منگل کو اپنے ایک بیان میں یورپی یونین نے کہا ہے کہ ترکی کی کارروائیاں اس صورت میں قابلِ قبول ہیں جب یہ حد سے تجاوز نہ کریں اور ان کے نتیجےمیں ملک میں جاری جمہوری سیاسی عمل خطرے میں نہ پڑے۔

'پی کے کے' ترکی میں سرگرم کرد باغیوں کا سب سے مضبوط اور منظم گروہ ہے جو 1984ء سے کرد اکثریتی علاقے کی ترکی سے آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کررہا ہے۔ باغیوں کی کارروائیوں میں اب تک 40 ہزار افراد مارے جاچکےہیں۔

XS
SM
MD
LG