رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی دھماکے: ہلاکتیں 95 ہوگئیں، قومی سوگ کا اعلان


صدر رجب طیب اردوان نے بم دھماکوں کو ملکی اتحاد کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے لوگوں سے متحد رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے پیر کو شروع ہونے والا اپنا دورہ ترکمانستان بھی منسوخ کر دیا ہے۔

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 95 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 248 زخمیوں میں درجنوں کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ہفتہ کو مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب یہ خود کش دھماکے اس وقت ہوئے جب یہاں حزب مخالف اور کرد کارکن ہزاروں کی تعداد میں امن ریلی کے سلسلے میں جمع تھے۔

حکومت نے ملکی تاریخ کے اس ہلاکت خیز واقعے پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن وزیراعظم احمد داؤد اغلو نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے پیچھے کرد باغیوں یا داعش کے شدت پسندوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں کچھ عرصے سے کرد باغیوں اور داعش کے بیانات کے حوالے سے انٹیلی جنس معلومات موصول ہو رہی تھیں کہ خودکش بمبار ترکی روانہ کیے گئے ہیں اور ایسے حملوں سے ترکی میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی جائے گی۔"

وزیراعظم نے ان حملوں کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

ہفتہ کو دیر گئے ہزاروں افراد استنبول کے مرکزی حصے میں جمع ہوئے اور مرنے والوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انھوں نے حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

حکومت کی طرف سے دھماکے اور اس سے ہونے والے نقصانات کے مناظر نشر اور شائع کرنے سے ذرائع ابلاغ کو یہ کہہ کر منع کیا ہے کہ اس سے "افراتفری پھیلنے کا خطرہ ہے۔"

صدر رجب طیب اردوان نے بم دھماکوں کو ملکی اتحاد کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے لوگوں سے متحد رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے پیر کو شروع ہونے والا اپنا دورہ ترکمانستان بھی منسوخ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "اس حملے کا سب سے بہترین اور بامعنی جواب یکجہتی اور عزم ہے جو ہم اس کے خلاف ظاہر کریں گے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اپنے ترک ہم منصب اردوان کو فون کر کے اس واقعے پر دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر اوباما نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ترکی کے ساتھ کھڑے رہنے کے امریکی عزم کا اعادہ بھی کیا۔

XS
SM
MD
LG