رسائی کے لنکس

logo-print

میزائل دفاعی نظام: چین اور ترکی میں معاہدہ متوقع


ایران، شمال کوریا اور شام سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں پر امریکہ نے اس چینی کمپنی پر قدغنیں عائد کی تھیں اور اسی بنا پر ترکی کے سی پی ایم آئی ای سی کے ساتھ تعاون پر واشگٹن ’’سنگین تحفظات‘‘ کا اظہار بھی کر چکا ہے۔

ترکی کے ایک سینئیر عہدیدار نے کہا کہ ان کا ملک آئندہ چھ ماہ میں ایک چینی کمپنی کے ساتھ میزائل کے دفاعی نظام کی مشترکہ تیاری سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دے سکتا ہے۔

معاون وزیر برائے دفاعی صنعت مراد بیار نے منگل کو انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے اپنے مدمقابل کمپنیوں کی نسبت چائنا پریسیشن مشینری ایمپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کارپوریشن (سی پی ایم آئی ای سی) کی بولی ’’قابل ذکر‘‘ حد تک کم تھی۔ اس منصوبے میں دلچسپی رکھنے والی امریکہ، روس اور یورپی کمپنیاں تھیں۔

ایران، شمال کوریا اور شام سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں پر امریکہ نے اس چینی کمپنی پر قدغنیں عائد کی تھیں اور اسی بنا پر ترکی کے سی پی ایم آئی ای سی کے ساتھ تعاون پر واشگٹن ’’سنگین تحفظات‘‘ کا اظہار بھی کر چکا ہے۔

بیار کا کہنا تھا کہ ترکی نیٹو ڈیفنس سسٹم کی معلومات کا تبادلہ چین کے ساتھ نہیں کرے گا اور اگر یہ معاہدہ ہوگیا تو تقریباً تمام پیداوار ترکی ہی میں ہوگی۔

چین کے لیے یہ ایک منصوبہ جدید ہتھیاروں کی فراہمی کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG