رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: ریٹائرڈ جرنیلوں پر فوجی انقلاب کی سازش کے باضابطہ الزامات


‘کوئی شخص قانون سےبالاتر نہیں’: وزیرِ اعظم رجب طیب اردوغان

ترکی کی ایک عدالت نے دو ریٹائرڈ جرنیلوں پر حکومت کا تختہ اُلٹنے کی ایک مبیّنہ سازش کے با ضابطہ الزامات عائد کردیے ہیں۔

چھان بین کے دوران جن 30 سے زیاد لوگوں پر اب باضابطہ الزامات عائد کیے گئے ہیں ، ترکی کی فرسٹ آرمی کے سابق سر براہ چے تین دوغان اور برّی فوج کے خصوصی دستوں کے سابق سر براہ انغِین عالم اُن میں سب سے سینئف شخصیتیں ہیں۔
جمعے کے روز اس سے پہلے وزیر ِ اعظم رجب طیّب اردوغان نے ٹیلی بیژن پر ایک تقریر میں خبر دار کیا تھا کہ” کوئى شخص قانون سے بالا نہیں ہے“۔

جمعے کے روز ہی ترک ذرائع ابلاغ نے اظلاع دی ہے کہ حکام نے حکومت کا تختہ اُلٹنے کی ایک مبیّنہ سازش کے سلسلے میں فوج میں اس وقت موجو د مزید 17افسروں کو گرفتار کرلیا ہے۔اور یوں اس ہفتے گرفتار کیے جانے والے لوگوں کی تعداد 67 ہوگئی ہے۔

ترک عہدے داروں کا دعویٰ ہے کہ مشتبہ لوگوں نے 2003 میں مذہبی رُجحان کی حامل نَو منتخب حکومت کو ختم کرنے لیے فوجی انقلاب کا منصوبہ بنانا شروع کیا تھا۔

ترکی میں فوج، شروع ہی سے خود کو ملک کے سیکیولر نظام کا محافظ خیال کرتی رہی ہے۔اور اُس نے 1960 سے 1997 تک ملک کی چار حکومتوں کو معزول کیا تھا۔

ترک لیڈر اس بارے میں تشویش دور کرنے کوشش کررہے ہیں کہ حکومت اور فوج کے درمیان محاذ آرائى سے معیشت پر بُرا اثر پڑے گا۔

مسٹر اردوغان اور صدر عبد اللہ گل نے جمعرات کے روز مسلح افواج کے سربراہ جنرل اِلکر باس بگ سےایک ملاقات میں تین گھنٹے تک مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا، جس میں انہوں لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ تمام معاملات سے ذمّے داری کے ساتھ اور قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG