رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کے فوجی شام میں داخل نہیں ہوئے: ترک وزیر دفاع


شامی حکومت نے کہا تھا کہ ترک فورسز ان 100 مسلح افراد میں شامل تھیں جو حکومت سے برسرپیکار باغیوں کو رسد فراہم کرنے کے لیے ہفتے کو بھاری مشین گنوں سے لیس 12 ٹرکوں میں بیٹھ کر شام داخل ہوئے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق ترک وزیر دفاع عصمت یلماز نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ کچھ ترک فوجی اختتام ہفتے شام میں داخل ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ ترکی اپنے ہمسایہ شام میں فوج بھیجنے پر غور نہیں کر رہا۔

شامی حکومت نے کہا تھا کہ ترک فورسز ان 100 مسلح افراد میں شامل تھیں جو حکومت سے برسرپیکار باغیوں کو رسد فراہم کرنے کے لیے ہفتے کو بھاری مشین گنوں سے لیس 12 ٹرکوں میں بیٹھ کر شام داخل ہوئے۔

عصمت یلماز سے جب ترک پارلیمانی کمیشن نے شام کی وزارت خارجہ کی طرف سے لگائے گئے الزام کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’یہ سچ نہیں -- ترک فوجیوں کے شام میں داخل ہونے کا کوئی تصور نہیں۔‘‘

ترک فوج نے اختتامِ ہفتہ شمالی شام میں کرد باغی گروہ وائے پی جی کے ٹھکانوں پر حملے کیے جنہوں نے حلب میں ایک فضائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا جس سے ترکی کے جنوب میں جنگ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

انقرہ کرد باغیوں کو دہشت گرد گروہ مانتا ہے جو جنوب مغربی ترکی میں تین دہائیوں سے خود مختاری کی جنگ لڑ رہا ہے۔

وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے مطالبہ کیا ہے کہ وائی پی جی اپنے زیر قبضہ علاقوں سے دستبردار ہو جائے جو اس نے شامی باغیوں سے چھینے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اتوار کو روس پر زور دیا کہ وہ شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت میں ’’اعتدال پسند’’ باغیوں پر حملے روکے جنہیں مغربی ممالک جنگ کے خاتمے میں ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

یلماز نے اس بات کی بھی تردید کی کہ سعودی طیارے داعش سے جنگ کے لیے ترکی کے انجرلک فضائی اڈے پہنچ گئے ہیں مگر کہا کہ اس سلسلے میں فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ سعودی عرب چار ایف سولہ طیارے بھیجے گا۔

شام کی سرحد پر ترک فوجیوں کی ایک گروہ سے جھڑپ میں اتوار کی شام ایک ترک فوجی ہلاک ہو گیا۔ ترک فوج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ گروہ غیر قانونی طور پر ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

ترک فوج نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ہتائی صوبے میں سوا سات بجے شام پیش آیا۔

XS
SM
MD
LG