رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی نے شام کا جنگی طیارہ مار گرایا


شامی افواج اور باغیوں کے درمیان ترکی سےمتصل شامی صوبے لتاکیہ کے سرحدی قصبے کساب پر قبضے کےلیے گزشتہ تین روز سے شدید لڑائی ہورہی ہے

ترکی نے مبینہ طور پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے شامی فضائیہ کے ایک جنگی طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردوان نے شامی طیارہ مار گرانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارہ سرحد پار کرکے ترکی کی حدود میں داخل ہوا تھا۔

ترک وزیرِاعظم نے اپنے ایک بیان میں شام کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ان کے ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی جاری رکھی تو اسے "سخت ردِ عمل" کا سامنا کرنا ہوگا۔

شام کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق ترکی کی سرحد سے متصل ایک علاقے میں شامی افواج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور جنگی طیارہ شام کی حدود میں باغیوں کا تعاقب کر رہا تھا جب اسے ترکی کے سرحدی محافظوں نے نشانہ بنایا۔

شامی فوج کے ایک ترجمان نے ترکی کی کاروائی کو "سنگین جارحیت" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ شام کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے کا پائلٹ بحفاظت زمین پر اترنے میں کامیاب رہا۔

خیال رہے کہ شامی افواج اور باغیوں کے درمیان ترکی سےمتصل شامی صوبے لتاکیہ کے سرحدی قصبے کساب پر قبضے کےلیے گزشتہ تین روز سے شدید لڑائی ہورہی ہے۔

دوسری جانب شام میں جاری خانہ جنگی کے زیرِاثر لبنان میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور شامی صدر بشار الاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جاری جھڑپوں کا سلسلہ دارالحکومت بیروت تک جا پہنچا ہے۔

حکام کے مطابق تازہ جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے جس کے بعد رواں ہفتے مرنےو الوں کی تعداد 10 سے تجاوز کرگئی ہے۔
XS
SM
MD
LG