رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی فلوٹیلا حملہ پہ معافی سے مشروط


ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوان

ترکی نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک تعلقات معمول پر نہیں لائے جائیں گے جب تک اسرائیلی حکومت گزشتہ برس غزہ جانے والے ایک امدادی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کے عمل پر معافی نہیں مانگ لیتی۔

یہ بات ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردوان نے ہفتہ کے روز استنبول میں جاری فلسطینی سفارت کاروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فلسطین کے صدر محمود عباس بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

وزیرِاعظم اردوان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو حملے میں ہلاک ہونے والے ترک باشندوں کے اہلِ خانہ کو معاوضوں کی ادائیگی اور غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ بھی کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان سفارتی تعلقات گزشتہ برس پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد سے شدید متاثر ہیں جس میں اسرائیلی فوجی کمانڈوز نے اسرائیل کی ناکہ بندی کا شکار فلسطینی علاقے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے پر حملہ کرکے 9 ترک رضاکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ اس کےفوجیوں کو اپنے دفاع میں اس وقت کارروائی پر مجبور ہونا پڑا تھا جب ایک امدادی جہاز پر سوار ہونے والی فوجی پارٹی پر رضاکاروں نے لاٹھیوں اور چھریوں سے حملہ کردیا تھا۔

اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی کا دفاع کرتے ہوئے اسے علاقے میں حکمران مزاحمتی تنظیم حماس کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG