رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کو داعش کے خلاف مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے: ایش کارٹر


امریکی وزیردفاع نے اس یقین کا اظہار کیا کہ امریکہ درست حکمت عملی استعمال کر رہا ہے اور داعش کو شکست ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی سخت اور پیچیدہ ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ ترکی کو شدت پسند گروپ داعش کے خلاف کارروائیوں اور اپنی سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

"ہم چاہتے ہیں کہ اس تنازع میں بطور ایک پڑوسی ملک اور نیٹو کا ایک عرصے سے اتحادی اور داعش کے خلاف اتحاد (میں شامل) کے ایک ذمہ دار رکن ہونے کے ناطے وہ (ترکی) شام اور عراق کے ساتھ اپنی طویل سرحد کو کنٹرول کرے۔"

داعش اس سرحد سے شام اور عراق میں اپنے جنگجو اور سازوسامان لے جاتا رہا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف فضائی کارروائیوں میں ترکی کی شمولیت ایک عرصے سے درکار تھی۔

"اس مہم کو ایک سال ہو چلا ہے لیکن وہ اب اس میں قابل ذکر شرکت دکھا رہے ہیں جس میں فضائی کارروائیوں میں شمولیت اور ہمیں اپنے فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینا شامل ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں۔"

کارٹر نے کہا کہ صدر براک اوباما بھی ترکی کی بھرپور شمولیت کے لیے بات چیت کا حصہ رہے ہیں۔

ترکی نے گزشتہ ماہ امریکی طیاروں کو داعش کے خلاف حملوں کے لیے انجرلک میں اپنا فضائی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن خود اس نے خطے میں اپنے دیرینہ مخالف کرد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھی۔

امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی کارروائیوں اور عراق کی زمینی فورسز کی مہم سے بعض علاقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہیں اور داعش اب گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں کمزور ہو چکی ہے۔

کارٹر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ امریکہ درست حکمت عملی استعمال کر رہا ہے اور داعش کو شکست ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی سخت اور پیچیدہ ہے۔

XS
SM
MD
LG