رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: مزید 176 فوجی افسران کی گرفتاری کا حکم


فوجی وردی میں ملبوس ترک صدر ایردوان شام کی سرحد پر ایک فوجی چوکی کے دورے کے دوران اہلکاروں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ترکی کی حکومت نے تین سال قبل ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے شبہے پر مسلح افواج کے مزید 176 افسران اور اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

استنبول شہر کے دفترِ استغاثہ کے مطابق جن اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دیا گیا ہے وہ تمام حاضر سروس ہیں اور ان پر امریکہ میں مقیم ترک نژاد مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کی تحریک سے تعلق کا الزام ہے۔

ترکی کی حکومت فتح اللہ گولن کی تحریک 'حزمت' کو تین سال قبل ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ذمہ دار ٹہراتی ہے۔ گولن اور ان کی تحریک کے ذمہ داران اس الزام کی تردید کرتے آئے ہیں۔

ترک حکومت 15 جولائی 2016ء کو ہونے والی بغاوت کے بعد سے اب تک حزمت سے تعلق کے شبہے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوجی اور سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر چکی ہے، جب کہ 77 ہزار افراد گرفتار ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ناکام بغاوت میں ملوث ملزمان کی نشان دہی اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ تین سال بعد بھی جاری ہے جسے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے اور ترک حزبِ اختلاف حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں۔

پیر کو استغاثہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جن افراد کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں ان میں ترک فوج کے ایک کرنل، دو لیفٹننٹ کرنل، پانچ میجر، سات کپتان اور 100 لیفٹننٹ شامل ہیں۔

بیان کے مطابق، مقدمات کا سامنے کرنے والے ان افسران کا تعلق ترک فوج کی تینوں شاخوں – بری، بحریہ اور فضائیہ- سے ہے۔

ترکی کے مغربی اتحادی بشمول امریکہ ناکام بغاوت کے مبینہ ذمہ داران کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے وسیع دائرے اور سخت اقدامات کے ناقد رہے ہیں اور ان کا الزام ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان کی حکومت ناکام بغاوت کی آڑ میں مخالفین کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن ترک حکومت کا موقف ہے کہ فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک سے متعلق افراد دہشت گرد اور ترکی کی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں جن سے نبٹنے کے لیے ایسی ہی سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG