رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: ایردوان کا اخبارات کے دفاتر پر چھاپوں کا دفاع


مسٹر اردگان نے پیر کے دِن کہا کہ دینی عالم، فتح اللہ گولین کے کم از کم 24 حامیوں کو حراست میں لینا ، حکومت مخالف دھڑوں کی ’بدنما سرگرمیوں‘ کو روکنے کے لیے ضروری تھا

ترکی کے صدر، رجب طیب اردگان نے اتوار کے روز امریکہ میں سرگرم عالمِ دین سے تعلق رکھنے والے اخباری اداروں کے خلاف مارے گئے پولیس چھاپوں کا دفاع کیا ہے۔

مسٹر اردگان نے پیر کے دِن کہا کہ دینی عالم، فتح اللہ گولین کے کم از کم 24 حامیوں کو حراست میں لیا جانا، حکومت مخالف دھڑوں کی ’بدنما سرگرمیوں‘ کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔

اُنھوں نےیورپی یونین کی طرف سے کی جانے والی تنقید کو مسترد کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ یہ چھاپے یورپی اقدار کے منافی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یورپی بلاک کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیئے۔

ترکی یورپی یونین میں شمولیت کی کوشش کرتا رہا ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے اِن چھاپوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کے روز جِن افراد کو چھان بین کے لیے حراست میں لیا گیا، اُن میں ’زمان‘ کے ایڈیٹر اِن چیف، اکرم دُمانلی شامل ہیں۔

’زمان‘ مُلک کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار ہے۔

دُمانلی نے کہا ہے کہ ترک میڈیا کا واسطہ ایک ’شریر انسان‘ سے پڑا ہے، جو، بقول اُن کے، ’بددماغ بن چکا ہے، جس کا دھیان جمہوریت کا شیرازہ بکھیرنے پر مرکوز ہے‘۔

ترک صدر نے گولین اور اُن کے حامیوں پر متوازی حکومت تشکیل دینے کی مہم شروع کرنے کا الزام لگایا ہے۔

اُنھوں نے، اِن عالم دین پر الزام عائد کیا ہے کہ ایک برس قبل رشوت ستانی کی چھان بین کا مطالبہ کرنے کے پیچھے وہی شخص ملوث تھا، جِن میں مسٹر اردگان کے داخلی حلقے کے کلیدی حلقے میں شامل وزیروں کا بھی نام تھا۔

XS
SM
MD
LG