رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کا روسی پائلٹ کی میت ماسکو بھیجنے کا اعلان


ترک وزیرِاعظم احمد اوغلو نے کہا ہے کہ ہلاک پائلٹ کی لاش ہفتے کی شب ترک حکام کے حوالے کردی گئی تھی جسے روس کی درخواست پر آرتھوڈاکس عیسائیت کے رواج کے مطابق رکھا گیا ہے۔

ترکی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترک فوج کی جانب سے مار گرائے جانے والے اس روسی طیارے کے ایک پائلٹ کی میت ماسکو بھیج رہی ہے جو پیراشوٹ کے ذریعے زمین کی طرف آتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھا۔

ترک وزیرِاعظم احمد اوغلو نے اتوار کو انقرہ میں صحافیوں کو بتایا کہ ہلاک پائلٹ کی لاش ہفتے کی شب ترک حکام کے حوالے کردی گئی تھی جسے روس کی درخواست پر آرتھوڈاکس عیسائیت کے رواج کے مطابق رکھا گیا ہے۔

یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ پائلٹ کی لاش اس سے قبل کس کے قبضے میں تھی اور اسے کس نے ترک حکام کے حوالے کیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے 'اندولو' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترک حکام پائلٹ کی لاش کو ماسکو روانہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ترک فضائیہ نے منگل کو شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے پر بمباری کرنے والے ایک روسی طیارے کو ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر مار گرایا تھا۔

روسی طیارہ ترکی کی سرحد سے ایک کلومیٹر دور شامی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ طیارے کا ایک پائلٹ پیراشوٹ کے ذریعے فضا سے زمین کی طرف آتے ہوئے مبینہ طور پر شامی باغیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا تھا جب کہ دوسرے پائلٹ کو شامی افواج نے اپنی تحویل میں لے کر شام کے صوبے لتاکیہ میں واقع روسی فوجی اڈے منتقل کردیا تھا۔

واقعے کے بعد سے روس اور ترکی کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچی ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان الفاظ کی جنگ اور سخت بیان بازی جاری ہے۔

واقعے سے متعلق دونوں ملکوں کا متضاد موقف سامنے آیا ہے۔ روسی حکام کا اصرار ہے کہ طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جب کہ ترک حکام کا کہنا ہے کہ مار گرانے سے قبل روسی طیارے کو کئی بار ترکی کی فضائی حدود سے نکل جانے کو کہا گیا تھا۔

روسی حکومت کا کہنا ہے کہ طیارہ ترکی سے متصل شام کے علاقے میں شدت پسند تنظیم داعش کےٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔

لیکن ترک صدر رجب طیب ایردوان کا موقف ہے کہ شام کے مذکورہ علاقے میں داعش کا کوئی وجود نہیں اور وہاں صرف ترکمان نسل کے "ہمارے بہنیں اور بھائی" آباد ہیں۔

واقعے کے ردِ عمل میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ترکی کےخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دیدی ہے جب کہ روسی حکومت نے اپنے شہریوں کو ترکی کے سفر سے روک دیا ہے۔

جواباً ترکی نے بھی اپنے شہریوں کو روس کے "غیر ضروری سفر" سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

XS
SM
MD
LG