رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی: بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کو انقرہ میں شکست


ترکی کے صدر طیب ایردوان اپنی اہلیہ کے ہمراہ

ترکی میں اتوار کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں صدر طیب ایردوان کی جماعت کو کو انقرہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جب کہ استنبول سمیت ملک کے دیگر شہروں میں حکمران جماعت کو حزب اختلاف کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

دوسری طرف استنبول شہر میں بھی دونوں جماعت کے درمیان سخت مقابلہ ہے اور حزب اختلاف نے ووٹنگ میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔

صدر ایردوان نے استنبول میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ جسٹس اینڈ دویولپمنٹ پارٹی ’اے کے پی‘ کو دھچکا لگا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات کے نتائج سے سبق سیکھیں گے۔ـ

صدر ایردوان نے کساد بازاری کا شکار ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرنے کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں کہیں شکست ہوئی اور کہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔‘‘

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اردوان کی طرف سے حزب اختلاف کی ریپبلکن پیپلز پارٹی یعنی سی ایج پی کے خلاف شعلہ بیانی سے اجتناب کرنا ان کی طرف سے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں شکست تسلیم کرنے کی طرف اشارہ تھا۔

اب تک ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے مطابق ‘سی ایچ پی’ جماعت کے امیدوار منصور یاوش کو انقرہ کے میئر کے انتخاب لیے حکمران جماعت کے امیدوار پر معمولی برتری حاصل ہے۔

انقرہ کے وسط میں جمع ہونے والے اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب میں یاوش نے مصلحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے پر مرکوز ہو گئی اور وہ ان اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست نہیں کریں گے جن کا تعلق حکمراں جماعت سے ہے۔

دوسری جانب استنبول کے میئر کے لئے ہونے والا انتخاب تنازع کا شکار ہے۔ حکمراں جماعت اے کے پی کے امیدوار بن علی یلدرم نے ایک مختصر تقریر میں اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعت سی ایج پی کے امیدوار اکرام امام اوغلو نے فوری ردعمل میں کہا کہ ایک ایسے مرحلے پر کامیابی کا دعویٰ کرنا شرم کی بات ہے جب، اب تک ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم ہے اور بھی کچھ ووٹوں کی گنتی ہونی باقی ہے۔

قبل ازیں اتوار کو امام اوغلو نے ووٹوں کی گنتی کے عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک سامنے آنے والے نتائج میں ووٹوں کی گنتی میں کئی خامیاں ہیں۔ استنبول میں 98.50 فیصد ووٹوں کی گنتی ہونے کے بعد نتائج روک دیے گئے ہیں اور کئی گھنٹوں تک نتائج کے بارے میں تازہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

انتخابات سے متعلق حزب اختلاف کے دھاندلی کے الزامات کے باعث ترکی کے حالیہ انتخابات متنازع ہو گئے ہیں تاہم حکمراں جماعت اے کی پی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

ترکی میں صدارتی نظام رائج ہونے کے بعد اتوار کو پہلی بار ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوئے جن میں حکمراں جماعت کو ملک میں کساد بازاری اور معاشی بحران کے باعث صدر طیب ایردوان کی حکمراں جماعت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انقرہ اور استنبول کے باہر حکمراں جماعت اے کے پی کئی اہم صوبائی شہروں میں انتخاب ہار گئی ہے جبکہ کئی دیگر شہروں میں کم فرق سے جیت سکی ہے جبکہ کئی اور شہروں میں حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG