رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی سے سعودی صحافی سے متعلق آڈیو، وڈیو ثبوت حاصل کریں گے: ٹرمپ


استنبول: سعودی قونصل جنرل محمد العتیبی کی رہائش گاہ کا تجزیہ

اُن سے پوچھا گیا کہ اگر سعودی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِس کے ذمے دار سعودی قائدین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان ہیں تو وہ کیا کریں گے، جس پر ٹرمپ نے ’فوکس بزنس‘ کو انٹرویو میں کہا کہ ’’ہاں۔ مجھے امید ہے کہ ہم انصاف کا ساتھ دیں گے‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ ترکی سے انٹیلی جنس آڈیو اور وڈیو حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں، ’’اگر موجود ہو‘‘۔ وہ ترکی میں لاپتا ہونے والے امریکہ میں مقیم سعودی صحافی کے بارے میں بات کر رہے تھے، جن کے بارے میں ترکی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اُنھیں سعودی ایجنٹوں نے استنبول میں سعودی سفارت خانے کے اندر مبینہ طور پر ہلاک اور ٹکڑے کیا گیا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے یہ مطالبہ کیا، ایسے میں جب اُنھوں نے امریکہ کے دیرینہ اتحادی سعودی عرب کے لیے حمایت کا اظہار کیا، اور کہا کہ انھیں امید ہے کہ لاپتا صحافی جمال خشوگی کے بارے میں تفتیش اس ہفتے کے آخر تک مکمل کرلی جائے گی۔ سعودی عرب نےخشوگی کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔

اُن سے پوچھا گیا کہ اگر سعودی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِس کے ذمے دار سعودی قائدین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان ہیں تو وہ کیا کریں گے، جس پر ٹرمپ نے ’فوکس بزنس‘ کو انٹرویو میں کہا کہ ’’ہاں۔ مجھے امید ہے کہ ہم انصاف کا ساتھ دیں گے‘‘۔

ٹرمپ کے الفاظ میں ’’آپ کو پتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی، ایران اور دیگر مقامات پر ہونے والی ہر بات میں ہمیں سعودی عرب کی ضرورت ہے‘‘۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا خشوگی کے معاملے پر امریکہ اپنے آپ کو سعودی عرب سے دور کرلے گا، ٹرمپ نے کہا ’’میں ایسا نہیں چاہتا، اور صاف عرض کردوں کہ اُن کی طرف سے 110 ارب ڈالر کا آرڈر ملا ہوا ہے‘‘۔ اُن کی مراد آئندہ سالوں کے دوران سعودی عرب کی جانب سے امریکہ ساختہ ہتھیار خریدنے سے متعلق تھی، جو ہتھیار دینے کا امریکہ نے وعدہ کر رکھا ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’اس کا مطلب 500000 روزگار کے مواقع ہیں، جو کہ بالآخر 110 ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ رقم کسی بیرونی ملک کی فوج کی جانب سے تاریخ میں موصول ہونے والا سب سے بڑا آرڈر ہے‘‘، اور کہا کہ ’’ہم اسے مسترد کر دیں گے؟‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG