رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے تنازع پر صدر ایردوان اور ٹرمپ کا ٹیلی فون پر رابطہ


ترک صدر رجب طیب ایردون انقرہ میں ایک دفاعی صنعنت کی تقریب میں تقریر کر رہے ہیں۔ ترکی شام کی سرحد پر اپنی فوجی قوت میں مسلسل اضافہ کررہا ہے۔ 13 دسمبر 2018

صدر ایردوان اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب ترکی شام کی سرحد پر اپنے فوجی دستے جمع کر رہا ہے۔

ترکی اور امریکہ کے صدور نے جمعے کے روز ایک ایسے موقع پر آپس میں ٹیلی فون پر بات کی ہے جب انقرہ کی جانب سے یہ دھمکی دی جا رہی ہے کہ وہ شام میں داعش کے خلاف جنگ میں واشنگٹن نے ایک اہم اتحادی پر حملہ کرے گا۔

ترک عہدے داروں نے کہا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے معاملے میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں صدور کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب ترکی شام کی سرحد پر اپنے فوجی دستے جمع کر رہا ہے۔ اردوان نے بدھ کے روز کہا تھا کہ شام کی کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف چند روز میں فوجی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

انقرہ، وائی پی جی کو ایک دہشت گرد گروپ تصور کرتا ہے جو ایک اور باغی کرد گروپ ’پی کے کے‘ سے منسلک ہے۔ یہ گروپ کئی عشروں سے ترکی کے اندر ریاست کے خلاف لڑ رہا ہے۔ جب کہ دوسری جانب ’وائی پی جے‘ کو واشنگٹن، شام میں داعش کے خلاف جنگ میں اپنے ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔

جمعے کے روز صدر اردوان نے اسلامی تعاون کی تنظیم کے ایک اجلاس میں شام کے شہر منبج کا ذکر کر کے کشیدگیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ منبج ایک ایسی جگہ ہے جہاں کی 85 سے 90 فی صد آبادی عرب ہے۔ لیکن امریکہ نے اس شہر کا مکمل کنٹرول ایک دہشت گرد گروپ کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انہیں وہاں سے نکال رہے ہیں۔ اگر وہ نہ نکلے تو ہم منبج میں داخل ہو جائیں گے۔

وائی پی جے ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ کے اتحاد میں شامل ہے جس نے یہ شہر داعش سے چھین تھا۔ انقرہ، واشنگٹن پر الزام لگاتا ہے کہ وہ کرد ملیشیا کو شہر سے نکالنے کے معاملے میں اپنے وعدے سے انحراف کر رہا ہے۔

اس سال کے شروع میں انقرہ اور واشنگٹن نے منبج کے معاملے پر کشیدگیاں کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جس کی ایک شق کے تحت منبج کے باہر امریکہ اور ترک فورسز کا مشترکہ گشت کیا جا رہا ہے۔

ترک فورسز اور ان کے عرب عسکری اتحادی منبج کے بہت قریب جمع ہیں۔ امریکہ کے محکمہ دفاع نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وائی پی جی کے خلاف کوئی بھی یک طرفہ کارروائی ناقابل قبول ہو گی۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ترک فورسز شام کی سرحد پر اپنی موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں اور وہ وائی پی جی کے مقابلے کے لیے اپنی قوت بڑھا رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اردوان واشنگٹن کی جانب سے اس چیز کے منتظر ہیں کہ وہ منبج سے ’وائی پی جی‘ کو جلد نکال لے گا اور شام کے اندر ترک سرحد کے ساتھ ایک حفاظتی حلقہ قائم کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG